وفاقی حکومت کا سرکاری ملازمین سے غیر ملکی شہریت اور اقامے کے کوائف فوری طلب کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے شفافیت کے پیش نظر تمام سرکاری افسران اور ملازمین سے غیر ملکی شہریت اور مستقل رہائش کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔

اہم ترین حقائق و پس منظر وفاقی حکومت نے سول سروس میں شفافیت اور آئینی تقاضوں کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے تمام وفاقی وزارتوں، ڈویژنز اور ذیلی اداروں میں تعینات سرکاری ملازمین سے ان کی غیر ملکی شہریت، غیر ملکی پاسپورٹ اور اقامے کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ مراسلے میں تمام محکموں کے سربراہان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے ماتحت کام کرنے والے افسران اور ملازمین کا مکمل ریکارڈ فوری طور پر مرتب کر کے ارسال کریں۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد حساس ریاستی اداروں اور پالیسی ساز شعبوں میں ایسے افراد کی نشاندہی کرنا ہے جو دوہری شہریت کے حامل ہیں، تاکہ قومی مفادات اور رازوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ حالیہ برسوں میں عدلیہ اور پارلیمان کی جانب سے بھی بیوروکریسی میں دوہری شہریت کے معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے، جس کے بعد یہ حتمی انتظامی قدم اٹھایا گیا ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات سرکاری شعبے میں پالیسی سازی کی سطح پر دوہری شہریت کا حامل عملہ معاشی فیصلوں اور تجارتی معاہدوں پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ ماہرین معاشیات کا ماننا ہے کہ اہم معاشی وزارتوں، جیسے کہ خزانہ، تجارت، اور نجکاری کمیشن میں تعینات افسران کی وفاداری اور شفافیت ملکی معیشت کے استحکام سے براہ راست جڑی ہوتی ہے۔ بین الاقوامی تجارتی معاہدوں، ٹیرف کے تعین اور نجی شعبے کے لیے ریگولیٹری فریم ورک کی تشکیل میں مفادات کے کسی بھی ممکنہ تصادم سے بچنا ضروری ہے۔ تاجر برادری اور ملکی صنعت کار طویل عرصے سے یہ مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ درآمدات و برآمدات کے ضوابط اور مالیاتی پالیسیاں بنانے والے افسران کا مستقبل پاکستان سے وابستہ ہونا چاہیے، تاکہ ملکی منڈیوں اور مقامی سرمایہ کاروں کو مساوی اور محفوظ ماحول میسر آ سکے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل حکومتی حلقوں کا موقف ہے کہ یہ اقدام گڈ گورننس اور ریاستی سیکیورٹی کے ناگزیر تقاضوں کے تحت اٹھایا گیا ہے، جس کا مقصد کسی کے ساتھ امتیازی سلوک برتنا نہیں بلکہ قواعد و ضوابط کی مکمل عملداری کو ممکن بنانا ہے۔ دوسری جانب بیوروکریسی کے بعض حلقوں میں اس فیصلے پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ بعض افسران کا خیال ہے کہ قانونی دائرے میں رہتے ہوئے بیرون ملک تعلیم یا ملازمت کے دوران حاصل کردہ اقامے کو جرم تصور نہیں کیا جانا چاہیے، جبکہ سول سروس ایسوسی ایشن کے اکثریتی ارکان نے شفافیت کے اس عمل کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کو خود کو احتساب کے لیے پیش کرنا چاہیے۔
مستقبل کا منظرنامہ کوائف کی وصولی کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اہم اور حساس نوعیت کے عہدوں پر تعیناتیوں کے لیے نئی اسکروٹنی پالیسی نافذ کی جائے گی۔ وہ افسران جو دوہری شہریت یا غیر ملکی مستقل رہائش ترک کرنے سے گریزاں ہوں گے، انہیں کلیدی فیصلہ ساز یا مالیاتی اختیارات والے عہدوں سے ہٹائے جانے کا امکان ہے۔ مستقبل میں اس اقدام سے انتظامی کارکردگی میں بہتری، عوامی اعتماد کی بحالی اور ریاستی اداروں میں شفافیت کے ایک نئے دور کے آغاز کی توقع کی جا رہی ہے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp