Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

ملک کو محرومی اور معاشی بحران کی طرف دھکیلنے سے گریز کیا جائے: مولانا فضل الرحمان

مولانا فضل الرحمان نے ملکی پالیسیوں پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ غلط ترجیحات کے باعث ملک محرومی اور شدید معاشی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کے فوری تدارک کی اشد ضرورت ہے۔

ملک کو محرومی اور معاشی بحران کی طرف دھکیلنے سے گریز کیا جائے: مولانا فضل الرحمان

اہم ترین حقائق و پس منظر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ملکی عمومی صورتحال، سیاسی کھینچا تانی اور حکومتی طرزِ حکمرانی پر سخت ردعمل دیتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ عوام اور ریاست کو محرومی کی طرف دھکیلنے کی کیا ضرورت ہے۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے حالیہ سیاسی فیصلوں اور معاشی اقدامات کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس امر پر زور دیا ہے کہ طاقت کے ذریعے نظام چلانے کے تجربات ماضی میں بھی ناکام رہے ہیں اور اب بھی ان کے مثبت نتائج برآمد نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے پارلیمان کی بالادستی اور عوامی مینڈیٹ کے احترام کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک ریاست اپنے بنیادی ستونوں کو آئینی حدود میں کام کرنے کی اجازت نہیں دے گی، تب تک ملک میں سیاسی استحکام کا قیام محض ایک خواب رہے گا۔

تجارتی و معاشی اثرات سیاسی قیادت کے اس قسم کے بیانات ملکی معیشت اور تجارتی حلقوں پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ پاکستان کی معیشت اس وقت بنیادی اصلاحات، افراط زر اور سرمائے کے انخلا جیسے شدید چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔ مالیاتی تجزیہ کاروں اور تجارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ سیاسی عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان سے روپے کی قدر پر دباؤ بڑھتا ہے، جس کے نتیجے میں سپلائی چین متاثر ہوتی ہے۔ ہول سیل اور ریٹیل منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال کے باعث اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ تاجر برادری اور سرمایہ کار طویل مدتی سرمایہ کاری سے گریزاں ہیں، کیونکہ سیاسی کشمکش اور پالیسی عدم تسلسل براہ راست کاروبار کی لاگت میں اضافے اور مارکیٹ کے اعتماد میں کمی کا باعث بن رہے ہیں۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل جے یو آئی کے سربراہ کا موقف ہے کہ عام آدمی مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے فقدان کے بوجھ تلے دب چکا ہے، جبکہ ریاستی پالیسیاں عوامی فلاح کے بجائے محض سیاسی جوڑ توڑ پر مرکوز ہیں۔ دوسری جانب حکومتی حلقوں کا مؤقف رہا ہے کہ ملکی معیشت کو پٹڑی پر لانے کے لیے سخت اور ناگزیر فیصلے لیے جا رہے ہیں، جن کے ثمرات جلد ظاہر ہوں گے۔ تجارتی انجمنوں اور چیمبرز آف کامرس نے اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سیاسی محاذ آرائی فوری طور پر ختم نہ ہوئی تو مینوفیکچرنگ سیکٹر اور درآمدی و برآمدی سرگرمیاں مزید شدید بحران کا شکار ہو جائیں گی، جس سے بیروزگاری میں تشویشناک اضافہ ہو سکتا ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ مستقبل کے تناظر میں دیکھا جائے تو اگر سیاسی قائدین اور ریاستی ادارے جامع مذاکرات اور میثاقِ معیشت کی جانب پیش رفت نہیں کرتے، تو ملک میں معاشی عدم استحکام مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ مبصرین کے مطابق، عوامی بے چینی اور معاشی بدحالی کے پیش نظر حکومت کو اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ آنے والے مہینوں میں اگر مہنگائی پر قابو نہ پایا گیا اور تاجروں کے تحفظات دور نہ کیے گئے تو احتجاجی تحریکوں کے خطرات بڑھ جائیں گے، جو پہلے سے دباؤ کا شکار معیشت کے لیے ناقابل تلافی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
ملک کو محرومی اور معاشی بحران کی طرف دھکیلنے سے گریز کیا جائے: مولانا فضل الرحمان