Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

پالیسی سازی پر اصول پسندی ناگزیر، قربانیوں کو سیاسی تنقید کی نذر نہ کیا جائے: مولانا فضل الرحمان

مولانا فضل الرحمان نے قومی پالیسی سازی میں سنجیدگی اختیار کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سیاسی مفادات کے لیے قربانیوں کا مذاق اڑانے کے بجائے معاشی استحکام پر توجہ دی جائے۔

پالیسی سازی پر اصول پسندی ناگزیر، قربانیوں کو سیاسی تنقید کی نذر نہ کیا جائے: مولانا فضل الرحمان

اہم ترین حقائق و پس منظر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے موجودہ سیاسی صورت حال پر کھل کر اظہار خیال کرتے ہوئے ملکی امور کو اصولی بنیادوں پر چلانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ دارالحکومت میں منعقدہ اہم اجلاس اور میڈیا سے گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ وہ ذاتی مخالفت کے بجائے ریاستی پالیسیوں پر بات کرتے ہیں، اس لیے جمہوری عمل اور عوامی بقا کے لیے دی جانے والی قربانیوں کا مذاق نہیں اڑایا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ ملک میں سیاسی پولرائزیشن نے ایسے ماحول کو جنم دیا ہے جہاں قومی مفاد اور باہمی احترام ثانوی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ ماضی کے سیاسی و سفارتی فیصلوں نے ملک کو جس نہج پر پہنچایا ہے، اس کے ازالے کے لیے تمام جماعتوں کو ذاتی انا چھوڑ کر ادارہ جاتی استحکام اور متوازن خارجہ و داخلہ پالیسی کی تدوین پر اتفاق کرنا ہوگا۔

تجارتی و معاشی اثرات سیاسی قیادت کے مابین پالیسیوں پر پیدا ہونے والا یہ تصادم تجارتی اور صنعتی شعبے کے لیے براہ راست تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ پاکستان کی معیشت، جو پہلے ہی افراط زر، گرتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر اور درآمدی لاگت میں اضافے کی لپیٹ میں ہے، مزید سیاسی بے یقینی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ تاجر برادری اور سرمایہ کار اس نوعیت کے پالیسی اختلافات کو مستقبل کے مالیاتی فیصلوں کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں، جس سے تجارتی حجم اور مارکیٹ کے اعتماد میں تعطل آتا ہے۔ مقامی منڈیوں اور ریٹیلرز کے مطابق اگر ریاستی سطح پر پالیسی تسلسل کو یقینی نہ بنایا گیا تو اشیائے ضروریہ کی ترسیل، درآمدات کے طریقہ کار اور سرمائے کے انخلا کے مسائل مزید سنگین ہو سکتے ہیں، جس کا آخری بوجھ عام شہری کی قوت خرید پر پڑتا ہے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل جے یو آئی کے سربراہ کے اس سخت مؤقف پر مختلف حلقوں کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا یہ بیان مقتدر حلقوں اور اتحادی قیادت دونوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ اہم فیصلوں میں ان کے نکتہ نظر کو نظرانداز کرنا سیاسی توازن بگاڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب حکومتی حلقوں نے پالیسی سطح پر مشاورت کا خیرمقدم کرتے ہوئے پارلیمانی فورمز کو مستحکم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے اسے موجودہ سیاسی نظام کے اندر پائی جانے والی بے چینی کا واضح ثبوت قرار دیا ہے۔ چیمبرز آف کامرس اور صنعتی انجمنوں نے بھی سیاسی قیادت سے اپیل کی ہے کہ وہ معاشی ایجنڈے کو سیاسی تلخیوں سے الگ رکھیں۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ چند ہفتے ملکی سیاست اور قانون سازی کے اعتبار سے غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں۔ اگر سیاسی جماعتوں نے سنجیدہ ڈائیلاگ کا راستہ اختیار نہ کیا تو قانون سازی اور اصلاحاتی ایجنڈا تعطل کا شکار ہو سکتا ہے، جس کے اثرات بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ جاری مذاکرات پر بھی پڑیں گے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ تناظر میں تمام فریقین کو ایک گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی طرف پیش رفت کرنا ہوگی تاکہ نہ صرف پالیسی کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے بلکہ ملکی معیشت کو بھی موجودہ نازک موڑ سے نکال کر پائیدار ترقی کی شاہراہ پر ڈالا جا سکے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
پالیسی سازی پر اصول پسندی ناگزیر، قربانیوں کو سیاسی تنقید کی نذر نہ کیا جائے: مولانا فضل الرحمان