خیبر پختونخوا کے ساتھ کراچی اور سندھ کے مسائل پر بھی فوری توجہ دی جائے: ڈاکٹر فاروق ستار کا وفاق سے مطالبہ
ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے وفاقی حکومت پر زور دیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے ساتھ ساتھ کراچی اور اندرون سندھ کے سنگین معاشی و انتظامی مسائل پر بھی ہنگامی توجہ دی جائے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سینئر مرکزی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے وفاقی حکومت اور مقتدر حلقوں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ملک کے دیگر صوبوں خصوصاً خیبر پختونخوا میں جاری سیاسی و سلامتی چیلنجز کے ساتھ ساتھ ملک کے معاشی مرکز کراچی اور مجموعی طور پر سندھ کی سنگین صورتحال کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ پریس کانفرنس اور عوامی فورم پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملک کی مجموعی بقا اور معاشی استحکام کا دارومدار کراچی کی ترقی سے وابستہ ہے، مگر بدقسمتی سے وفاق اور صوبائی سطح پر اس صنعتی و تجارتی مرکز کے مسائل کو مسلسل پس پشت ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہر قائد میں امن و امان کی خراب صورتحال، اسٹریٹ کرائمز کی بے لگام لہر اور بنیادی انفراسٹرکچر کی زبوں حالی نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات معاشی ماہرین اور کاروباری حلقوں کے مطابق کراچی پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے جو ملکی ریونیو کا نصف سے زائد حصہ فراہم کرتا ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار کے انتباہ کو تجارتی برادری میں گہری تشویش کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔ گیس، بجلی اور پانی کی شدید قلت کے باعث صنعتی علاقوں میں پیداواری لاگت کئی گنا بڑھ چکی ہے، جس سے برآمدی شعبہ شدید دباؤ کا شکار ہے۔ سڑکوں کی خستہ حالی اور تجارتی مراکز میں بڑھتی ہوئی بدامنی نے ہول سیل اور ریٹیلرز کے اعتماد کو بری طرح مجروح کیا ہے۔ اگر سندھ بالخصوص کراچی کے ان معاشی تنازعات کو فوری حل نہ کیا گیا تو اس سے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری متاثر ہو گی اور ملک میں جاری بیروزگاری و مہنگائی کے بحران میں مزید شدت آئے گی۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل ڈاکٹر فاروق ستار کا مؤقف ہے کہ وفاقی قیادت اپنی تمام تر توانائیاں صرف مخصوص سیاسی بحرانوں اور سرحدی علاقوں پر مرکوز رکھنے کے بجائے سندھ کے شہری مراکز کے انتظامی ڈھانچے کی بحالی پر خرچ کرے۔ ان کے بقول، ملک کو ریونیو فراہم کرنے والے خطے کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک اب ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے۔ دوسری جانب تاجر تنظیموں اور فیکٹری مالکان نے بھی اس بیانیے کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکسوں کی بھاری ادائیگی کے باوجود کراچی کو بنیادی وسائل فراہم نہیں کیے جا رہے۔ ادھر حکومتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ وفاق تمام صوبوں کے ساتھ یکساں سلوک کا خواہاں ہے اور امن و امان کی بحالی کے لیے صوبائی انتظامیہ کے ساتھ مل کر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان وسائل کی منصفانہ تقسیم اور کراچی کے لیے اعلان کردہ ترقیاتی پیکیجز پر پیش رفت انتہائی اہم ہو گی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر وفاقی حکومت نے فوری طور پر کراچی اور سندھ کے بنیادی انفراسٹرکچر اور امن وامان کے حل کے لیے خصوصی ٹاسک فورس تشکیل نہ دی تو سیاسی بے چینی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاجر برادری بھی طویل مدتی اصلاحات کی منتظر ہے تاکہ معاشی حب میں سرمایہ کاری کے محفوظ ماحول کی بحالی ممکن ہو سکے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp