Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

وزیراعظم کی جانب سے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ محمد ظفر اقبال معاون خصوصی برائے توانائی مقرر

وزیراعظم نے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ محمد ظفر اقبال کو معاون خصوصی برائے توانائی مقرر کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد توانائی شعبے میں اصلاحات اور بحران پر قابو پانا ہے۔

وزیراعظم کی جانب سے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ محمد ظفر اقبال معاون خصوصی برائے توانائی مقرر

اہم ترین حقائق و پس منظر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے باضابطہ منظوری دیتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد ظفر اقبال کو معاون خصوصی برائے توانائی مقرر کر دیا ہے۔ کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اس تقرری کا فوری اطلاق ہوگا اور ان کی بنیادی ذمہ داری ملکی توانائی شعبے میں درپیش انتظامی اور تکنیکی مسائل کا تدارک ہوگی۔ پاکستان کا شعبہ توانائی اس وقت ملکی معیشت کے لیے ایک سب سے بڑا بوجھ تصور کیا جا رہا ہے، جہاں گردشی قرضہ ناقابل برداشت حدوں کو چھو رہا ہے اور تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی شدید تنقید کی زد میں ہے۔ ایک سینئر عسکری پس منظر رکھنے والی شخصیت کا اس عہدے پر تقرر ظاہر کرتا ہے کہ وفاقی حکومت توانائی کی منتقلی، ریکوریز اور انتظامی نظم و ضبط قائم کرنے کے لیے سخت اور غیر روایتی فیصلے لینے کے لیے پرعزم ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات توانائی کا شعبہ ملکی معیشت، صنعتی پیداوار اور تجارتی سرگرمیوں کا بنیادی انجن ہے۔ بجلی اور گیس کے نرخوں میں مسلسل اضافے نے صنعتی شعبے کو عالمی منڈی میں مسابقت سے باہر کر دیا ہے، جبکہ چھوٹے تاجر اور ریٹیلرز بجلی کے بھاری بلوں کی وجہ سے شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ اس نئی تقرری کے بعد مالیاتی ماہرین کا اندازہ ہے کہ حکومت لائن لاسز اور بجلی چوری کے خلاف جاری مہم کو مزید منظم اور سخت بنائے گی۔ اگر نئے معاون خصوصی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے انتظام کو بہتر بنانے اور نجی شعبے کی شمولیت کے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس سے گردشی قرضے کی رفتار تھم سکتی ہے۔ کاروباری طبقہ توانائی کی قیمتوں میں استحکام اور سستی بجلی کی بلا تعطل فراہمی کا متقاضی ہے تاکہ پیداواری لاگت کو قابو میں لایا جا سکے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل حکومتی ذرائع کا مؤقف ہے کہ توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے مضبوط عزم اور انتظامی صلاحیتوں کی ضرورت تھی، اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد ظفر اقبال کی تعیناتی اصلاحاتی ایجنڈے کو تیز تر کرے گی۔ حکومتی ترجمان کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ طے شدہ اصلاحات پر عمل درآمد اب مزید مربوط انداز میں ہو سکے گا۔ دوسری جانب تاجر تنظیموں اور صنعت کاروں نے اس فیصلے کا محتاط خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اعلیٰ سطح کی تقرریوں کے اثرات تب ہی مفید ثابت ہوں گے جب وہ زمینی حقائق کے مطابق پالیسیاں مرتب کریں اور صنعتی و کمرشل ٹیرف میں کمی لائیں۔ سیاسی و معاشی مبصرین کے مطابق سول انتظامیہ اور عسکری نظم و ضبط کا یہ امتزاج اگر شفافیت کے ساتھ آگے بڑھے تو اصلاحاتی عمل تیز ہو سکتا ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ آنے والے مہینوں میں نو منتخب معاون خصوصی کے سامنے ڈسکوز کی نجکاری، درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں (آئی پی پیز) کے ساتھ معاہدوں کی ازسرنو تشکیل جیسے کٹھن چیلنجز ہوں گے۔ اگر انسدادِ بجلی چوری مہم کو شفاف طریقے سے انجام تک پہنچایا گیا تو قومی خزانے کو اربوں روپے کی بچت ہو سکتی ہے۔ بصورت دیگر، اگر بنیادی پالیسیوں اور ایندھن کے مکس میں دیرپا تبدیلیاں نہ لائی گئیں تو وقتی انتظامی دباؤ معاشی مسائل کا مستقل حل فراہم نہیں کر سکے گا۔ تجارتی منڈیاں اور بین الاقوامی ادارے اس تقرری کے بعد عملی اقدامات اور نتائج پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
وزیراعظم کی جانب سے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ محمد ظفر اقبال معاون خصوصی برائے توانائی مقرر