Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

عالمی امن، استحکام اور اقتصادی ترقی میں چین کا کردار انتہائی ناگزیر ہے: وزیراعظم

وزیراعظم پاکستان نے عالمی امن، استحکام اور اقتصادی ترقی کے حصول میں چین کے غیر معمولی اور کلیدی کردار کو سراہتے ہوئے دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

عالمی امن، استحکام اور اقتصادی ترقی میں چین کا کردار انتہائی ناگزیر ہے: وزیراعظم

اہم ترین حقائق و پس منظر اسلام آباد میں اعلیٰ سطح کے ایک اہم اجلاس کے دوران وزیراعظم پاکستان نے عالمی امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے فروغ میں چین کے انتہائی اہم اور فیصلہ کن کردار کی بھرپور تحسین کی ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ بین الاقوامی سطح پر چین کی پالیسیاں ہمیشہ امن، باہمی احترام اور اقتصادی تعاون کی علمبردار رہی ہیں۔ حالیہ برسوں میں خطے اور دنیا بھر میں بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال کے تناظر میں پاکستان اور چین کے تعلقات ایک مضبوط ڈھال کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت جاری منصوبے نہ صرف پاکستان کی معاشی بحالی میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کر رہے ہیں بلکہ یہ خطے میں رابطہ کاری اور ترقی کے نئے باب بھی رقم کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مشکل وقت میں چین ہمیشہ پاکستان کا سب سے بڑا اسٹریٹجک پارٹنر ثابت ہوا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی ہمالیہ سے بلند اور سمندر سے گہری ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے معاشی اور تجارتی تعاون کے پاکستان کی اندرونی مارکیٹ، صنعتوں اور مجموعی معیشت پر انتہائی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ سی پیک کے دوسرے مرحلے کے آغاز سے دونوں ممالک کے درمیان صنعتی منتقلی، زراعت کی جدید کاری اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی نئی راہیں کھل رہی ہیں۔ اس تعاون سے پاکستان میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں، برآمدات میں اضافے کے امکانات روشن ہو رہے ہیں اور مقامی صنعتوں کو جدید چینی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہو رہی ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس شراکت داری سے افراط زر کے دباؤ کو کم کرنے اور ملکی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے میں مدد ملے گی، جس سے بالآخر عام آدمی کو ریلیف اور کاروباری طبقے کو سازگار ماحول میسر آئے گا۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل حکومتیحلقوں اور معاشی ماہرین کی جانب سے پاک چین تعلقات کو خطے میں امن اور خوشحالی کی ضمانت قرار دیا جا رہا ہے۔ وزارت خارجہ اور وزارت منصوبہ بندی کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان تمام تزویراتی امور پر مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ تجارتی تنظیموں اور ایوان ہائے صنعت و تجارت نے بھی اس عزم کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ چینی سرمایہ کاری سے پاکستان کے صنعتی شعبے کو عالمی منڈی میں مقابلہ کرنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔ تاجر برادری کا خیال ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان آزادانہ تجارت کے معاہدوں کے بہتر نفاذ سے تجارتی خسارے کو کم کرنے میں نمایاں مدد ملے گی۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ آنے والے مہینوں میں پاک چین تعلقات میں مزید گہرائی آنے کی توقع ہے، بالخصوص توانائی، انفراسٹرکچر، اور گرین انرجی کے منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد متوقع ہے۔ حکومت پاکستان کا عزم ہے کہ وہ چین کے ساتھ مل کر علاقائی رابطہ کاری کے منصوبوں کو بروقت مکمل کرے گی تاکہ وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ تک تجارتی راستے آسان بنائے جا سکیں۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر موجودہ پالیسیوں کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھا گیا تو پاکستان نہ صرف اپنی معاشی مشکلات پر قابو پا لے گا بلکہ خطے کا ایک اہم تجارتی اور معاشی مرکز بن کر ابھرے گا، جس سے طویل المدتی بنیادوں پر قومی مفادات کا تحفظ یقینی ہوگا۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
عالمی امن، استحکام اور اقتصادی ترقی میں چین کا کردار انتہائی ناگزیر ہے: وزیراعظم