خیبرپختونخوا میں ہنگامی صورتحال کا نفاذ مجبوری کا فیصلہ ہے، بلاول بھٹو زرداری
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ مجبوری کے تحت کیا گیا ہے اور یہ اقدام مستقل بنیادوں پر برقرار نہیں رہے گا۔

اہم ترین حقائق و پس منظر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خیبرپختونخوا کی موجودہ امن و امان اور انتظامی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ صوبے میں ہنگامی نوعیت کے اقدامات اور ایمرجنسی کا نفاذ کسی مستقل حکمت عملی کا حصہ نہیں بلکہ زمینی حقائق کے تحت ناگزیر مجبوری بن چکا تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ ریاستی رٹ کی بحالی، دہشت گردی کے خطرات کا تدارک اور عوامی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے جس کے لیے انتظامیہ کو غیر معمولی اختیارات تفویض کرنا پڑے۔ خیبرپختونخوا طویل عرصے سے سیکیورٹی کے سنگین چیلنجز اور سرحد پار کشیدگی کے زیر اثر رہا ہے، جس کی وجہ سے صوبائی نظم و نسق کو معمول پر لانے کے لیے سخت فیصلوں کی ضرورت پیش آئی ہے۔ بلاول بھٹو نے یقین دہانی کرائی کہ جیسے ہی حالات میں بہتری کے آثار نمایاں ہوں گے، جمہوری و آئینی عمل کو مکمل اختیارات کے ساتھ بحال کر دیا جائے گا۔
تجارتی و معاشی اثرات خیبرپختونخوا میں ہنگامی اقدامات اور سیکیورٹی خدشات نے صوبائی معیشت کو شدید طور پر متاثر کیا ہے۔ پشاور، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان اور ملحقہ قبائلی اضلاع میں تجارتی سرگرمیاں سست روی کا شکار ہیں۔ پاک افغان بارڈر کے راستے ہونے والی دوطرفہ تجارت، ٹرانسپورٹ کے نظام اور لاجسٹکس چین کو مسلسل رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کے نتیجے میں برآمد کنندگان اور مقامی تاجروں کو یومیہ کروڑوں روپے کے نقصانات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔ ریٹیل اور ہول سیل مارکیٹوں میں گاہکوں کی عدم موجودگی اور سرمائے کے انخلا نے صنعتی شعبے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق اگر غیریقینی کا یہ دورانیہ طویل ہوا تو اشیائے خوردونوش کی ترسیل متاثر ہونے سے افراط زر اور مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ہو جائے گا جس سے عام شہریوں کی قوت خرید بری طرح مجروح ہوگی۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل وفاقی و صوبائی سطح پر اس معاملے پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ حکومتی اتحادی جماعتوں کا مؤقف ہے کہ امن کے قیام کے بغیر پائیدار ترقی ناممکن ہے، اس لیے ریاست کو سخت اقدامات کا مکمل اختیار حاصل ہونا چاہیے۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے ان اقدامات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے نکتہ اٹھایا ہے کہ ایمرجنسی کے نام پر بنیادی جمہوری حقوق اور پارلیمانی خودمختاری پر قدغن نہیں لگنی چاہیے۔ تاجر تنظیموں اور ایوان ہائے صنعت و تجارت نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ امن عامہ کی بحالی کے ساتھ ساتھ معاشی سرگرمیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے اور کاروباری مراکز کے لیے بلا تعطل آمد و رفت اور خصوصی سیکیورٹی کوریڈورز قائم کیے جائیں تاکہ تجارتی پہیہ جام نہ ہو۔
مستقبل کا منظرنامہ آنے والے ہفتوں میں خیبرپختونخوا کی مجموعی صورتحال کا انحصار سیکیورٹی آپریشنز کے نتائج اور سیاسی ہم آہنگی پر ہوگا۔ وفاقی حکومت کو محض سیکیورٹی پر توجہ مرکوز رکھنے کے بجائے متاثرہ کاروباری طبقے کے لیے ہنگامی معاشی ریلیف پیکیج کا اعلان کرنا ہوگا۔ مستقل حل کے لیے ناگزیر ہے کہ ریاستی ادارے، سیاسی قیادت اور اسٹیک ہولڈرز مل بیٹھ کر ایک جامع اور شفاف روڈ میپ تشکیل دیں جس سے نہ صرف پائیدار امن کی ضمانت مل سکے بلکہ صوبے کی معاشی بحالی اور عوامی اعتماد سازی کا عمل بھی تیزی سے آگے بڑھ سکے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp