Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

معدنی وسائل کے قانونی فریم ورک پر عملدرآمد ناگزیر ہے، بیرسٹر گوہر کا پالیسی سطح پر آئینی بالادستی کا مطالبہ

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ ملک میں معدنی وسائل کے انتظام کے لیے واضح قوانین موجود ہیں، لہٰذا تمام معاشی و انتظامی فیصلے آئین اور قانون کے مطابق ہی کیے جانے چاہئیں۔

معدنی وسائل کے قانونی فریم ورک پر عملدرآمد ناگزیر ہے، بیرسٹر گوہر کا پالیسی سطح پر آئینی بالادستی کا مطالبہ

اہم ترین حقائق و پس منظر پاکستان میں قدرتی وسائل بالخصوص معدنیات کے شعبے پر جاری قومی بحث میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے واضح کیا ہے کہ ملک میں معدنی ذخائر کے انتظام، لائسنسنگ اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے حوالے سے جامع قانونی فریم ورک پہلے سے موجود ہے، اس لیے ریاست کے تمام کلیدی فیصلے اسی قانونی دائرے میں رہ کر کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ آئین کی اٹھارہویں ترمیم کے بعد قدرتی وسائل کی ملکیت اور نگرانی سے متعلق صوبوں کے اختیارات واضح ہیں، جنہیں پس پشت ڈال کر کی جانے والی کوئی بھی قانون سازی طویل مدتی بحرانوں کو جنم دے سکتی ہے۔ ملکی سطح پر ریکوڈک، تھر کول اور دیگر معدنی منصوبوں پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے تناظر میں یہ بیان خاص اہمیت کا حامل ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات معاشی و صنعتی ماہرین کے مطابق معدنیات کا شعبہ ملکی برآمدات اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے کی بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم اگر اس شعبے میں قانونی ابہام یا سیاسی عدم اتفاق رائے برقرار رہے تو بین الاقوامی کارپوریٹ اداروں کا اعتماد متزلزل ہو سکتا ہے۔ سرمایہ کار کسی بھی ملک میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے قبل قانونی تحفظ اور شفاف پالیسیوں کو اولیت دیتے ہیں۔ غیر شفاف یا متنازع فیصلوں کی صورت میں مقامی مارکیٹ میں مائننگ انڈسٹری، تعمیراتی خام مال کی فراہمی اور متعلقہ کاروباری سرگرمیاں منفی طور پر متاثر ہوتی ہیں۔ طویل مدتی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ریونیو کے شفاف بٹوارے کا طریقہ کار وضع کریں تاکہ ملکی تاجروں اور ریٹیلرز کو معاشی سرگرمیوں سے براہ راست فائدہ پہنچ سکے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل بیرسٹر گوہر نے اپنے تفصیلی مؤقف میں کہا کہ ریاست کو اداروں کی سطح پر ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کرنا چاہیے جس سے ملکی آئین کی روح متاثر ہو۔ پارلیمان کی بالادستی اور مقامی عوام کے حقوق کو اولین ترجیح دینا ہی پائیدار معاشی استحکام کی ضمانت ہے۔ دوسری جانب حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ملک کو فوری طور پر بیرونی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے اور اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کے ذریعے معدنیات سمیت اہم شعبوں میں سرخ فیتے کی رکاوٹیں دور کی جا رہی ہیں۔ تاہم حزب اختلاف اور قانونی ماہرین کا اصرار ہے کہ تیز رفتار فیصلے قانون کی بالادستی کی قیمت پر نہیں ہونے چاہئیں۔ تاجر برادری نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وسائل کی ترقی میں مقامی سرمایہ کاروں کو مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ چند ماہ کے دوران معدنی شعبے سے متعلق قانون سازی اور نئے ریگولیٹری فریم ورک کا معاملہ قومی سیاست کا بنیادی محور بن سکتا ہے۔ اگر متعلقہ فریقین کے مابین وسیع البنیاد مشاورت کے ذریعے فیصلے نہ کیے گئے تو عدالتوں میں قانونی چیلنجز اور عوامی سطح پر احتجاجی ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔ ملکی معیشت کی بحالی کے لیے ناگزیر ہے کہ حکومت شفافیت کو یقینی بنائے، صوبائی حقوق کا احترام کرے اور پارلیمان کو بااختیار بنا کر دیرپا سرمایہ کاری کی راہیں ہموار کرے، ورنہ تنازعات کی فضا معاشی نمو کو سبوتاژ کر سکتی ہے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
معدنی وسائل کے قانونی فریم ورک پر عملدرآمد ناگزیر ہے، بیرسٹر گوہر کا پالیسی سطح پر آئینی بالادستی کا مطالبہ