Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

دہشتگردی قومی سلامتی اور معاشی استحکام کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، اسد عمر

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے واضح کیا ہے کہ دہشتگردی ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر کوئی کمپرومائز نہیں ہو سکتا۔ امن و امان کا قیام معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔

دہشتگردی قومی سلامتی اور معاشی استحکام کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، اسد عمر

اہم ترین حقائق و پس منظر پاکستان اس وقت تاریخ کے ایک انتہائی حساس اور فیصلہ کن دور سے گزر رہا ہے جہاں داخلی سلامتی اور معاشی استحکام ایک دوسرے کے ساتھ گہرائی سے پیوست ہیں۔ ملک میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی اور امن و امان کی نازک صورتحال پر تمام قومی قیادت اور سنجیدہ حلقوں کی طرف سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس تناظر میں سابق وفاقی وزیر اور سینئر سیاستدان اسد عمر کا یہ مؤقف انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ دہشتگردی ایک ایسا ناسور ہے جس کے خلاف کسی بھی قسم کی لچک یا کمپرومائز کی گنجائش موجود نہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کے مختلف حصوں میں سکیورٹی فورسز کو چیلنجز کا سامنا ہے اور ریاست کی رٹ کو برقرار رکھنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات معاشی ماہرین اور کاروباری حلقوں کا متفقہ خیال ہے کہ امن اور معیشت کے مابین چولی دامن کا ساتھ ہے۔ جب تک ملک میں پائیدار امن قائم نہیں ہوتا، ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کا فروغ ناممکن ہے۔ دہشتگردی کے واقعات براہ راست سپلائی چین، تجارتی سرگرمیوں، اور ریٹیل مارکیٹوں کو متاثر کرتے ہیں۔ سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال کے باعث نئے منصوبوں سے کتراتے ہیں جس سے روزگار کے مواقع کم ہوتے ہیں اور مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ کلیار ٹریڈرز کے تجارتی تجزیہ کاروں کے مطابق، کاروباری برادری کے اعتماد کی بحالی کے لیے امن و امان کی بہتری اولین شرط ہے تاکہ تجارتی سرگرمیاں بغیر کسی خوف کے جاری رہ سکیں۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل سیاسی رہنماؤں، تاجر برادری اور دفاعی تجزیہ کاروں کی طرف سے اسد عمر کے بیان کو سراہا گیا ہے۔ فریقین کا اس بات پر اجماع ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ صرف سکیورٹی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری قوم کو یک زبان ہو کر اس کے خلاف کھڑا ہونا چاہ的ے۔ تاجر تنظیموں نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ تجارتی مراکز، منڈیوں اور شاہراہوں پر سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کریں تاکہ کاروباری طبقہ خوف کی فضا سے نکل کر ملکی معیشت میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکے۔ حکومت کی جانب سے بھی عزم ظاہر کیا گیا ہے کہ ملک سے اس فتنہ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ آنے والے دنوں میں ریاست کی رٹ اور انسداد دہشتگردی کی پالیسیوں کے حوالے سے مزید سخت اقدامات متوقع ہیں۔ اگر حکومت اور عسکری قیادت نے مشترکہ حکمت عملی کے تحت دہشتگردی کے خلاف مؤثر اور فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھیں تو اس کے مثبت اثرات ملکی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔ تاجر برادری توقع کر رہی ہے کہ امن و امان کی بہتر ہوتی ہوئی صورتحال کے ساتھ ہی تجارتی اور صنعتی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی، جس سے افراط زر پر قابو پانے اور معیشت کو پٹری پر لانے میں مدد ملے گی۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
دہشتگردی قومی سلامتی اور معاشی استحکام کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، اسد عمر