Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

مذاکرات کیلئے تیار ہیں، وزیراعظم سیاسی کمیٹی تشکیل دیں، علامہ راجہ ناصر عباس کا مطالبہ

مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس نے وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ سیاسی بحران کے حل کیلئے فوری طور پر سیاسی رہنماؤں کی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ مذاکرات کے ذریعے ملک کو درپیش چیلنجز سے نکالا جا سکے۔

مذاکرات کیلئے تیار ہیں، وزیراعظم سیاسی کمیٹی تشکیل دیں، علامہ راجہ ناصر عباس کا مطالبہ

اہم ترین حقائق و پس منظر ملک میں جاری سیاسی تناؤ اور معاشی چیلنجز کے تناظر میں مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس نے ایک بار پھر قومی سطح پر مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ سیاسی جماعتوں اور اہم قومی رہنماؤں پر مشتمل ایک بااختیار کمیٹی تشکیل دی جائے جو تمام فریقین کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے بامقصد بات چیت کا آغاز کر سکے۔ موجودہ ملکی حالات میں جہاں سیاسی عدم استحکام کے اثرات براہ راست عام آدمی اور ملکی معیشت پر پڑ رہے ہیں، اس نوعیت کے اقدامات کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، حکومتی اور اپوزیشن حلقوں کے درمیان طویل عرصے سے جاری ڈیڈ لاک نے انتظامی امور کو بھی متاثر کیا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے سیاسی افہم و تفہیم ناگزیر ہو چکی ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات ملکی معیشت پہلے ہی مہنگائی، توانائی کے بحران اور بیرونی قرضوں کے دباؤ کا شکار ہے، اور سیاسی بے یقینی اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ کلیاڑ ٹریڈرز کے تجارتی تجزیہ کاروں کے مطابق سیاسی انتشار کا براہ راست اثر مقامی منڈیوں، اسٹاک ایکسچینج اور کاروباری سرگرمیوں پر پڑتا ہے۔ سرمایہ کار کسی بھی طویل مدتی منصوبے میں سرمایہ کاری سے گریز کرتے ہیں جب تک سیاسی استحکام کی ضمانت نہ ملے۔ اس صورتحال میں ریٹیلرز، چھوٹے تاجروں اور عام صارفین کو مہنگائی کی چکی میں پسنا پڑ رہا ہے۔ علامہ راجہ ناصر عباس کا مذاکرات کا مطالبہ اگر عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اس سے کاروباری برادری میں اعتماد بحال ہوگا، سپلائی چین کے مسائل حل ہوں گے اور معاشی ترقی کی رفتار بہتر ہو سکے گی۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل علامہ راجہ ناصر عباس کے اس بیان پر سیاسی اور سماجی حلقوں کی طرف سے ملا جلا لیکن اکثریتی طور پر مثبت ردعمل سامنے آیا ہے۔ سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جمہوریت میں بات چیت کے دروازے کبھی بند نہیں ہونے چاہئیں اور قومی مفاد کو ہر قسم کی ذاتی یا گروہی ترجیحات پر مقدم رکھنا چاہیے۔ دوسری جانب، کاروباری تنظیموں اور تاجر برادری نے اس مطالبے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کو ذاتی انا کو بالائے طاق رکھ کر فوری طور پر مذاکراتی میز پر آنا چاہیے۔ تاجر رہنماؤں نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ ہڑتالوں، دھرنوں اور سیاسی محاذ آرائی سے معیشت کو جو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے، اس کا ازالہ کرنا اب ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی اہم ہوگا کہ آیا حکومت اس مطالبے پر سنجیدگی سے غور کرتی ہے یا نہیں۔ اگر وزیراعظم کی جانب سے کوئی بااختیار سیاسی کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے تو اس سے ملک میں جاری سیاسی محاذ آرائی میں کمی آ سکتی ہے۔ بصورت دیگر، عدم استحکام کے یہ بادل ملکی معیشت اور معاشرتی امن دونوں کے لیے مزید خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔ تمام نگاہیں اب حکومتی ردعمل اور سیاسی قیادت کے آئندہ لائحہ عمل پر مرکوز ہیں کہ آیا وہ ذاتی اختلافات کو بھুلا کر قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں یا نہیں۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
مذاکرات کیلئے تیار ہیں، وزیراعظم سیاسی کمیٹی تشکیل دیں، علامہ راجہ ناصر عباس کا مطالبہ