Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

سیاسی محاذ آرائی اور معاشی منصوبے: احسن اقبال کا پی ٹی آئی کے طرز عمل پر ردعمل

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے تحریک انصاف کے سیاسی بیانیے پر طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے ملکی ترقی کے لیے سیاسی استحکام کو بنیادی ضرورت قرار دیا ہے۔

سیاسی محاذ آرائی اور معاشی منصوبے: احسن اقبال کا پی ٹی آئی کے طرز عمل پر ردعمل

اہم ترین حقائق و پس منظر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے سیاسی مخالفین خصوصاً پاکستان تحریک انصاف کے حالیہ بیانات اور طرز سیاست پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایک بار پھر ملکی معیشت اور ترقیاتی ترجیحات پر کھل کر گفتگو کی ہے۔ اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت اور اپنے حالیہ بیانات میں وفاقی وزیر نے طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے اپوزیشن جماعت کے اقدامات پر تبصرہ کیا اور کہا کہ سیاسی رکاوٹوں کے باوجود حکومت قومی ترقی کے منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران سیاسی انتشار نے ریاستی مشینری اور معاشی استحکام کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کی بحالی موجودہ اتحادی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ احسن اقبال کے مطابق پاکستان کے دیرینہ ترقیاتی منصوبوں، خصوصاً چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو ازسرنو فعال کرنا ریاستی بقا کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات سیاسی قیادت کے بیانات اور جاری سیاسی کشمکش کے براہ راست اثرات ملکی منڈیوں اور معاشی سرگرمیوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ کلیار ٹریڈرز اور مالیاتی ماہرین کے مطابق جب بھی ملکی سطح پر سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے، اس کے منفی اثرات اسٹاک مارکیٹ، زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر پر دیکھے جاتے ہیں۔ بیرونی سرمایہ کار اور ملکی تجارتی برادری مستقل بنیادوں پر پالیسیوں کے تسلسل کی خواہاں ہے۔ معاشی مبصرین کا خیال ہے کہ سیاسی غیر یقینی صورتحال سے کاروباری طبقہ نئے منصوبوں میں سرمایہ کاری روک دیتا ہے، جس سے صنعتی پیداوار سست روی کا شکار ہوتی ہے اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ معیشت کے اس نازک موڑ پر سیاسی جماعتوں کے درمیان محاذ آرائی افراط زر میں کمی کی حکومتی کوششوں کو متاثر کر سکتی ہے، جس سے عام صارف اور چھوٹے ریٹیلرز کی قوت خرید پر مزید بوجھ پڑنے کا اندیشہ ہے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل حکومتی حلقوں کا موقف ہے کہ ملک کو سنگین مالیاتی بحران سے نکالنے کے لیے سیاسی دانشمندی اور استحکام ناگزیر ہے۔ وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا ہے کہ سیاسی مخالفین قومی مفادات پر ذاتی اور جماعتی ترجیحات کو فوقیت دے رہے ہیں، جس کا نتیجہ معاشی عدم استحکام کی صورت میں نکلتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف اور اپوزیشن رہنماؤں کا موقف ہے کہ حکومت آئینی حدود سے تجاوز کر رہی ہے اور عوام کے حقیقی مینڈیٹ کے بغیر معاشی اصلاحات کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔ اپوزیشن کے مطابق موجودہ معاشی بحران کی بنیادی وجہ ناقص انتظامی فیصلے اور شفافیت کا فقدان ہے۔ تاجر برادری اور چیمبرز آف کامرس نے دونوں فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ جمہوری دائرہ کار میں رہتے ہوئے معاشی بحالی کو قومی ایجنڈے کے طور پر اپنائیں تاکہ تجارتی سرگرمیاں بلاتعطل جاری رہ سکیں۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ دنوں میں سیاسی محاذ پر کشیدگی میں کمی یا اضافے کے رجحانات ملکی معیشت کی سمت کا تعین کریں گے۔ اگر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تلخیاں برقرار رہیں تو بیرونی مالیاتی اداروں اور ممکنہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام کی بدولت قلیل مدتی معاشی سہارا ملا ہے، تاہم طویل مدتی استحکام کے لیے داخلی سیاسی مصالحت اولین شرط ہے۔ آنے والے ہفتوں میں حکومتی ترقیاتی بجٹ کا اجرا اور سی پیک کے دوسرے مرحلے کی رفتار یہ واضح کرے گی کہ آیا سیاسی تقاریر سے ہٹ کر عملی معاشی اہداف حاصل کیے جا سکیں گے یا نہیں۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
سیاسی محاذ آرائی اور معاشی منصوبے: احسن اقبال کا پی ٹی آئی کے طرز عمل پر ردعمل