Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

خیبر پختونخوا کی معاشی و شہری بدحالی پر عوامی نیشنل پارٹی کا سخت ردعمل، ثمر بلور کی صوبائی حکمرانوں پر شدید تنقید

اے این پی کی رہنما ثمر بلور نے پشاور اور خیبر پختونخوا کے بلدیاتی و معاشی مسائل پر صوبائی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے بنیادی ڈھانچے کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔

خیبر پختونخوا کی معاشی و شہری بدحالی پر عوامی نیشنل پارٹی کا سخت ردعمل، ثمر بلور کی صوبائی حکمرانوں پر شدید تنقید

اہم ترین حقائق و پس منظر خیبر پختونخوا کی سیاست اور انتظامی ڈھانچے پر طویل عرصے سے جاری سیاسی کشمکش ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کی مرکزی رہنما ثمر بلور نے پشاور کے شہری و انتظامی مسائل پر پریس کانفرنس اور عوامی اجتماعات میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ صوبے پر مسلط گزشتہ تیرہ سالہ دورِ اقتدار نے سیاست میں تلخی گھولی اور صوبائی دارالحکومت پشاور کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا۔ ان کے مطابق پشاور جو کبھی پھولوں کا شہر اور خطے کا تاریخی تجارتی مرکز کہلاتا تھا، ناقص پالیسیوں، ادھورے تعمیراتی منصوبوں اور بلدیاتی ترجیحات کے فقدان کی وجہ سے مسائل کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات، پینے کے صاف پانی کی نایابی اور سڑکوں کی توڑ پھوڑ نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات پشاور اور گردونواح کے صنعتی و تجارتی حلقے اس انتظامی صورت حال سے براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ سڑکوں کی خستہ حالی اور ٹریفک کے سنگین مسائل کے سبب تجارتی مال کی ترسیل کے اخراجات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، جس سے ہول سیل اور ریٹیل منڈیوں میں اجناس کی قیمتوں پر دباؤ بڑھا ہے۔ خیبر پختونخوا کی منڈیوں میں گاہکوں کی آمدورفت محدود ہونے سے چھوٹے دکاندار اور کارخانہ دار شدید کساد بازاری کا شکار ہیں۔ اس کے علاوہ بلدیاتی ٹیکسوں کے نفاذ کے باوجود سہولیات کی عدم فراہمی پر تاجر برادری تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔ صوبائی بجٹ میں بنیادی ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کے ناکافی اجرا نے نجی سرمایہ کاری کے اعتماد کو بھی مجروح کیا ہے، جس کے باعث مقامی معیشت مسلسل جمود کی طرف گامزن ہے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت کا کہنا ہے کہ صوبائی وسائل کو ذاتی و سیاسی تشہیر کے لیے استعمال کیا گیا جبکہ عوامی فلاح کے منصوبے پس پشت ڈال دیے گئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ شہر کی تاریخی شناخت اور بنیادی ڈھانچے کو فوری بحال کیا جائے۔ دوسری جانب صوبائی حکومت کے ترجمانوں کا مؤقف ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے آئینی مالیاتی حقوق اور محصولات کی بروقت عدم فراہمی کے باعث ترقیاتی عمل میں رکاوٹیں آئیں، تاہم صوبائی حکومت نے صحت، تعلیم اور ڈیجیٹل اصلاحات کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور معاشی دباؤ کے باوجود پشاور کی تعمیر و ترقی کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ مقامی تجارتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سیاسی تنازعات کی قیمت تاجروں اور عوام کو چکانی پڑ رہی ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ آنے والے دنوں میں خیبر پختونخوا بالخصوص پشاور میں انتظامی کارکردگی اور شہری سہولیات پر سیاسی بحث مزید گرم ہونے کے امکانات ہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق اگر صوبائی انتظامیہ نے بلدیاتی اداروں کو بااختیار نہ بنایا اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر ہنگامی توجہ نہ دی تو صوبے میں تجارتی سرگرمیاں مزید سکڑ سکتی ہیں۔ پشاور کی تجارتی اہمیت کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ صفائی، امن و امان اور مواصلاتی رابطوں کو ترجیحی بنیادوں پر درست کیا جائے تاکہ سرمایہ کاروں اور تاجروں کا اعتماد بحال ہو سکے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
خیبر پختونخوا کی معاشی و شہری بدحالی پر عوامی نیشنل پارٹی کا سخت ردعمل، ثمر بلور کی صوبائی حکمرانوں پر شدید تنقید