Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

اڈیالہ جیل سے قیدیوں کی اسلام آباد ماڈل جیل منتقلی کا فیصلہ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے احکامات جاری

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اعلان کیا ہے کہ اڈیالہ جیل سے قیدیوں کو اسلام آباد کی نو تعمیر شدہ جدید ماڈل جیل میں منتقل کیا جائے گا جس سے انتظامی دباؤ میں نمایاں کمی آئے گی۔

اڈیالہ جیل سے قیدیوں کی اسلام آباد ماڈل جیل منتقلی کا فیصلہ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے احکامات جاری

اہم ترین حقائق و پس منظر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دارالحکومت میں زیرِ تعمیر اسلام آباد ماڈل جیل کے دورے کے دوران اعلان کیا ہے کہ سنٹرل جیل اڈیالہ راولپنڈی سے قیدیوں کو جلد از جلد اسلام آباد کی جدید ماڈل جیل میں منتقل کر دیا جائے گا۔ دورے کے دوران وزیر داخلہ نے تعمیراتی کام کی رفتار اور معیار کا تفصیلی جائزہ لیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کو مقررہ وقت کے اندر مکمل کیا جائے تاکہ اڈیالہ جیل پر طویل عرصے سے جاری غیر معمولی دباؤ کا خاتمہ ہو سکے۔ اڈیالہ جیل میں گنجائش سے کہیں زیادہ قیدیوں کی موجودگی کے باعث سیکیورٹی اور انتظامی چیلنجز سنگین شکل اختیار کر چکے ہیں، جبکہ اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے زیرِ سماعت قیدیوں کی روزانہ بنیادوں پر راولپنڈی سے اسلام آباد عدالتوں میں پیشی بھی ایک پیچیدہ اور حساس معاملہ رہی ہے۔ نئی ماڈل جیل کے فعال ہونے سے عدالتی پیشیوں کا عمل تیز اور محفوظ بن سکے گا۔

تجارتی و معاشی اثرات معاشی اور تجارتی نقطہ نظر سے ماڈل جیل منصوبے کی تکمیل ریاستی خزانے پر پڑنے والے غیر ضروری اخراجات میں نمایاں کمی کا باعث بنے گی۔ روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں قیدیوں کی نقل و حمل، سیکیورٹی قافلوں اور پیٹرولیم کی مد میں قومی خزانے سے خطیر رقم خرچ ہوتی ہے جس کی بچت ممکن ہو سکے گی۔ اس کے علاوہ اسلام آباد کی حدود میں جیل کی تعمیر سے متعلقہ سیکیورٹی آلات، نگرانی کے جدید ڈیجیٹل سسٹمز، طبی سہولیات اور بنیادی اشیائے خور و نوش کی سپلائی کے لیے ایک نیا تنظیمی فریم ورک وجود میں آئے گا۔ اس پیش رفت سے مقامی سپلائرز، قانونی مشاورت سے وابستہ اداروں اور سروس فراہم کرنے والے نجی شعبے کے لیے نئے معاشی اور تجارتی مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ سرکاری فنڈز کے مؤثر استعمال سے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرامز پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ماڈل جیل کے قیام کا بنیادی مقصد محض قیدیوں کو بند رکھنا نہیں بلکہ جدید ترین جیل اصلاحات کا نفاذ اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیارات کی پاسداری ہے۔ انتظامیہ اور پولیس حکام نے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے اسلام آباد پولیس کی نفری پر قیدیوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے عائد اضافی بوجھ کم ہوگا اور عدالتوں کے گرد و نواح میں حفاظتی صورتحال بہتر رہے گی۔ دوسری جانب قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے نمائندوں نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ نئی جیل میں قیدیوں کے لیے تعلیم، فنی تربیت اور بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی کو پہلی ترجیح بنایا جائے گا تاکہ وہ معاشرے کا مفید شہری بن سکیں۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ چند مہینوں میں اسلام آباد ماڈل جیل کے فعال ہونے سے وفاقی دارالحکومت کا عدالتی اور قانونی نظام ایک نئے دور میں داخل ہو جائے گا۔ اس منصوبے کی کامیابی کے بعد دیگر صوبوں کے لیے بھی جدید اصلاحاتی جیلوں کے ماڈلز تشکیل پائیں گے۔ مستقبل میں قیدیوں کی ڈیجیٹل حاضری اور ورچوئل کورٹس کا قیام بھی متوقع ہے جس سے انتظامی کارکردگی میں تیزی آئے گی۔ قیدیوں کی نئی جیل میں منتقلی سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان ٹریفک اور لا اینڈ آرڈر کی صورتحال پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور دارالحکومت میں سیکیورٹی کا مجموعی نظام مزید مستحکم ہو جائے گا۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
اڈیالہ جیل سے قیدیوں کی اسلام آباد ماڈل جیل منتقلی کا فیصلہ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے احکامات جاری