یلو لائن بس منصوبہ کرپشن کیس: سندھ ہائیکورٹ کا تحقیقات میں تاخیر پر سخت برہمی کا اظہار
سندھ ہائیکورٹ نے یلو لائن بس منصوبے کے کرپشن کیس میں تحقیقات مکمل نہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری کارروائی کی ہدایت کی ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر
کراچی کے اہم ترین ماس ٹرانزٹ پراجیکٹس میں شمار ہونے والے یلو لائن بس منصوبے میں مبینہ کرپشن اور مالی بے ضابطگیوں کا معاملہ ایک بار پھر سندھ ہائیکورٹ کے سامنے زیر سماعت آیا ہے۔ عدالت عالیہ نے تحقیقاتی اداروں کی جانب سے طویل عرصے گزرنے کے باوجود انکوائری مکمل نہ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ یلو لائن منصوبہ، جو کہ کورنگی سے براستہ ڈیفنس اور شاہراہ فیصل نمائش چورنگی تک تعمیر کیا جانا تھا، شروع دن سے ہی انتظامی غفلت اور تاخیر کا شکار رہا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد شہریوں کو جدید، محفوظ اور تیز رفتار سفری سہولیات فراہم کرنا تھا، تاہم کرپشن کے الزامات اور فنڈز کے مبینہ غلط استعمال نے اس عوامی فلاحی منصوبے کو تنازعات کی زد میں لا کھڑا کیا۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ عوامی سرمائے کی اس طرح کی لوٹ مار اور تحقیقات میں جان بوجھ کر کی جانے والی تاخیر کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔
تجارتی و معاشی اثرات
اس منصوبے میں تاخیر اور کرپشن کے الزامات کا براہ راست اثر ملکی معیشت، مقامی تجارت اور بالخصوص کراچی کے کاروباری طبقے پر پڑ رہا ہے۔ کورنگی صنعتی ایریا سے منسلک ہونے کی وجہ سے یلو لائن منصوبہ تجارتی سرگرمیوں کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ منصوبے کی تکمیل میں تاخیر سے مال برداری کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے اور صنعتی پیداوار کی بروقت ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ، تعمیراتی کام ادھورا رہنے کی وجہ سے شاہراہوں پر روزانہ کی بنیاد پر لگنے والے ٹریفک جام سے ایندھن کا ضیاع اور کاروباری حضرات کو مالی نقصان کا سامنا ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسے میگا پراجیکٹس میں بدعنوانی سے نہ صرف غیر ملکی سرمایہ کاری پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں بلکہ عام آدمی کی قوت خرید بھی مہنگائی اور سفری اخراجات میں اضافے کی وجہ سےمتاثر ہوتی ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل
عدالت میں سماعت کے دوران نیب اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندے تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہے۔ عدالت نے برہم ہوتے ہوئے استفسار کیا کہ کرپشن کے سنگین مقدمات میں پیشرفت کیوں سست روی کا شکار ہے؟ دوسری جانب، تاجر برادری اور شہریوں نے سندھ ہائیکورٹ کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ داران کے خلاف کاتروائی کی جائے۔ تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کراچی کے عوام کو برسوں سے سبز باغ دکھائے جا رہے ہیں لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ منصوبے کو شفاف طریقے سے جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ معاشی سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔
مستقبل کا منظرنامہ
سندھ ہائیکورٹ کی سختی کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ تحقیقاتی ادارے اپنی کارروائی کو تیز کریں گے اور جلد ہی حتمی رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے گی۔ اگر اس کیس میں کڑی احتساب کی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے تو یہ مستقبل کے دیگر ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایک اہم نظیر بنے گا۔ تاہم، اگر تاخیر کا یہ سلسلہ جاری رہا تو نہ صرف قومی خزانے کو مزید نقصان پہنچے گا بلکہ عوام کا سرکاری اداروں پر اعتماد بھی متزلزل ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عدالتی نگرانی میں اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے اور یلو لائن منصوبے کی فوری تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.