رواں مالی سال ورکرز ترسیلات زر 44 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع، گورنر اسٹیٹ بینک کا اعلان
گورنر اسٹیٹ بینک نے اعلان کیا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران پاکستانی ورکرز کی ترسیلات زر 44 ارب ڈالرز سے زائد رہیں گی، جو ملکی معیشت کے استحکام اور زرمبادلہ کے ذخائر کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر نے معاشی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران ملک میں آنے والی ورکرز ترسیلات زر (ورکرز ریمیٹنسز) تاریخی بلندیوں کو چھوتے ہوئے 44 ارب ڈالرز سے تجاوز کر جائیں گی۔ یہ پیش گوئی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملکی معیشت بیرونی کھاتوں کے استحکام اور مہنگائی میں کمی کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی یہ رقم ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، جس سے نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہوتے ہیں بلکہ ملکی درآمدات اور بیرونی ادائیگیوں کے بوجھ کو سنبھالنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ حالیہ مہینوں میں ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کی بنیادی وجوہات میں قانونی اور بینکنگ چینلز کا فروغ، غیر قانونی حوالہ ہنڈی کے کاروبار کے خلاف سخت کریک ڈاؤن اور اوورسیز پاکستانیوں کا ملکی معیشت پر بڑھتا ہوا اعتماد شامل ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات ورکرز ترسیلات زر میں اس نمایاں اضافے کے ملکی تجارت، معیشت اور عام زندگی پر گہرے اور دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ معاشی ماہرین کے مطابق، اتنی بڑی مقدار میں زرمبادلہ کی آمد سے روپے کی قدر کو استحکام ملے گا اور غیر ملکی کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی دستیابی بہتر ہوگی۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے سے درآمدی بل کی ادائیگی میں آسانی ہوتی ہے، جس سے صنعتی خام مال اور ضروری اشیاء کی درآمد بلا تعطل جاری رہتی ہے۔ منڈیوں میں اعتماد کی بحالی سے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملتا ہے اور افراط زر کے دباؤ میں کمی واقع ہوتی ہے۔ ریٹیل اور کنزیومر مارکیٹ میں بھی اس کا براہ راست اثر یہ ہوتا ہے کہ متوسط اور نچلے طبقے کے گھرانے، جو ان ترسیلات پر انحصار کرتے ہیں، ان کی خریداری کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے جس سے مقامی معیشت کو متحرک رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل معاشی حلقوں، کاروباری برادری اور مالیاتی ماہرین نے اسٹیٹ بینک کے اس اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔ تجارتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے بینکنگ کے عمل کو مزید آسان اور شفاف بنانا وقت کی اہم ضرورت تھا، اور حکومت و مرکزی بینک کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات رنگ لارہے ہیں۔ بینکاری کے شعبے کے ماہرین کا مؤقف ہے کہ اگر ترسیلات زر کے روایتی ذرائع کو مزید جدید اور ڈیجیٹل بنایا جائے تو اس حجم میں مزید اضافہ ممکن ہے۔ حکومت اور وزارت خزانہ نے بھی اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کو ملک میں سرمایہ کاری کے لیے مزید مراعات دی جائیں گی تاکہ ترسیلات زر کا ایک بڑا حصہ براہ راست پیداواری شعبوں میں لگایا جا سکے، جس سے ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ پیش رفت کے حوالے سے معاشی تجزیہ کار پرامید ہیں کہ اگر ملکی سیاسی اور معاشی استحکام کا موجودہ تسلسل برقرار رہا تو پاکستان کو بیرونی مالیاتی امداد پر انحصار کم کرنے میں نمایاں مدد ملے گی۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے مانیٹری پالیسیوں میں بہتری اور ڈیجیٹل ریمیٹنس پلیٹ فارمز کے استعمال کو بڑھانے سے آنے والے برسوں میں ترسیلات زر کی ترسیل مزید تیز اور محفوظ ہو جائے گی۔ تاہم، ماہرین کا یہ بھی مشورہ ہے کہ حکومت کو اس زرمبادلہ کو صرف کھپت کے بجائے برآمدی صنعتوں اور طویل المدتی ترقیاتی منصوبوں کی طرف موڑنے کے لیے جامع حکمت عملینانی چاہیے تاکہ پائیدار معاشی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے اور ملک کو مالیاتی خودمختاری کی راہ پر ڈالا جا سکے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp