Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

جائیداد کے تنازع پر خاتون کا بہیمانہ قتل، سپریم کورٹ نے مجرم کی تمام اپیلیں خارج کر دیں

سپریم کورٹ نے جائیداد کے دیرینہ تنازع پر خاتون کے قتل میں نامزد مجرم کی اپیلیں خارج کرتے ہوئے ماتحت عدالتوں کی جانب سے دی گئی سزا کو برقرار رکھا ہے۔

جائیداد کے تنازع پر خاتون کا بہیمانہ قتل، سپریم کورٹ نے مجرم کی تمام اپیلیں خارج کر دیں

اہم ترین حقائق و پس منظر سپریم کورٹ آف پاکستان نے جائیداد کے تنازع پر خاتون کے بہیمانہ قتل کے مقدمے میں مجرم کی جانب سے دائر کردہ بریت کی تمام اپیلیں خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔ کیس کی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ کے بینچ نے مقدمے کے شواہد، گواہان کے بیانات اور میڈیکل رپورٹس کا تفصیلی جائزہ لیا۔ استغاثہ کے مطابق مجرم نے خاندانی جائیداد کے تنازع پر خاتون کو بے دردی سے نشانہ بنایا تھا، جس پر ماتحت عدالت نے جرم ثابت ہونے پر سخت سزا سنائی تھی۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے ریمارکس میں واضح کیا کہ فرانزک شواہد اور عینی شاہدین کے بیانات میں مکمل مطابقت موجود ہے، لہٰذا مجرم کسی رعایت کا مستحق نہیں ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات زمین اور جائیداد کے خاندانی تنازعات نہ صرف معاشرتی انتشار کا سبب بنتے ہیں بلکہ ان کے ملکی معیشت اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ پاکستان میں اربوں روپے مالیت کی غیر منقولہ جائیدادیں اور تجارتی اراضی عدالتی تنازعات کی وجہ سے طویل عرصے تک منجمد رہتی ہیں، جس سے کاروباری سرگرمیاں تعطل کا شکار ہو جاتی ہیں۔ جب کسی جائیداد پر خونی تنازعات جنم لیتے ہیں تو متعلقہ مارکیٹ میں جائیدادوں کی قدر میں کمی واقع ہوتی ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہو جاتا ہے۔ شفاف لینڈ ریکارڈ سسٹم اور بروقت تصفیہ نہ ہونے کی صورت میں کاروباری طبقے کو عدالتی کارروائیوں اور سیکیورٹی معاملات پر خطیر مالی اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل سماعت کے دوران وکیل صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ واقعے میں مجرم کو جھوٹا پھنسایا گیا ہے اور تفتیشی عمل میں قانونی تقاضوں کو نظر انداز کیا گیا، اس لیے عدالت سے سزا کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی۔ دوسری جانب پراسیکیوشن اور مدعی مقدمہ کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مجرم کے خلاف تمام دستاویزی، میڈیکل اور بیلسٹک شواہد موجود ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ قتل دانستہ طور پر جائیداد ہتھیانے کی غرض سے کیا گیا۔ مقتولہ کے ورثاء نے عدالت کے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کا یہ فیصلہ انصاف کی فتح ہے اور قانون کی بالادستی کا واضح ثبوت ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ ماہرین قانون کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے سنگین جرائم کے مقدمات میں اپیلوں کی جلد اور حتمی سماعت سے نظام عدل پر عوام کا اعتماد بحال ہوگا۔ تاہم، ایسے تنازعات کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اراضی کے ریکارڈ کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن کو جلد از جلد یقینی بنائیں۔ رئیل اسٹیٹ قوانین میں اصلاحات اور وراثتی جائیدادوں کی منتقلی کے عمل کو خودکار بنا کر ہی قتل و غارت جیسے سنگین جرائم کی بنیادی وجوہات کا سدباب ممکن ہے۔ قانونی حلقوں کا ماننا ہے کہ بروقت فیصلوں کے نفاذ سے جرائم پیشہ عناصر کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
جائیداد کے تنازع پر خاتون کا بہیمانہ قتل، سپریم کورٹ نے مجرم کی تمام اپیلیں خارج کر دیں