رکن کی گرفتاری کیلئے اسپیکر کی پیشگی اجازت نئی ایجاد نہیں: اسپیکر بابر سلیم سواتی
اسپیکر بابر سلیم سواتی نے پارلیمنٹ میں رکن کی گرفتاری کیلئے اسپیکر کی پیشگی اجازت کو پرانا اور آئینی ضابطہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کوئی نئی ایجاد نہیں۔

اہم ترین حقائق و پس منظر قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس کے دوران اسپیکر بابر سلیم سواتی نے ایک اہم پالیسی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی رکنِ پارلیمنٹ کی گرفتاری کے لیے اسپیکر کی پیشگی اجازت حاصل کرنے کا ضابطہ کوئی نئی ایجاد نہیں ہے، بلکہ یہ برطانوی پارلیمانی روایات اور ملکی آئین و قواعد کے عین مطابق ہے۔ حالیہ دنوں میں سیاسی و قانونی حلقوں میں اس بحث نے اس وقت زور پکڑا جب چند ارکان کی گرفتاری اور طلبی کے معاملات سامنے آئے۔ اسپیکر کا مؤقف تھا کہ ایوان کے تقدس کو بحال رکھنے اور اراکین کے استحقاق کا تحفظ کرنے کے لیے یہ قانونی شق ہمیشہ سے موجود رہی ہے تاکہ کوئی بھی ادارہ بلا جواز پارلیمانی سرگرمیوں میں مداخلت نہ کر سکے۔
تجارتی و معاشی اثرات سیاسی عدم استحکام اور پارلیمانی کشیدگی کا براہ راست اثر ملک کی معیشت اور کاروباری سرگرمیوں پر پڑتا ہے۔ سرمایہ کار برادری ہمیشہ اس بات کی خواہاں رہتی ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام ہو تاکہ مارکیٹ میں اعتماد بحال رہے۔ جب پارلیمنٹ کے اندر اس طرح کے آئینی اور قانونی مباحث طول پکڑتے ہیں تو پالیسی سازی کا عمل سست روی کا شکار ہو جاتا ہے۔ تجارتی تنظیموں اور ریٹیلرز کے مطابق، سیاسی کشیدگی کے باعث مہنگائی اور روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ کے جو اثرات مرتب ہوتے ہیں، ان سے عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ قانون کی بالادستی اور سیاسی مفاہمت کے بغیر معاشی ترقی کا سفر جاری رکھنا ناممکن ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل اسپیکر کے اس بیان پر سیاسی جماعتوں اور قانونی ماہرین کی جانب سے مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔ حکومتی اتحاد کا کہنا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور پارلیمانی استحقاق کا غلط استعمال احتساب کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ دوسری جانب، اپوزیشن جماعتوں نے اسپیکر کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اراکینِ اسمبلی کی گرفتاری کے لیے اسپیکر کو اعتماد میں لینا جمہوری روایات کا بنیادی حصہ ہے اور اس روایت کو نظر انداز کرنا جمہوریت کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ قانونی ماہرین کا اس نکتہ پر اتفاق ہے کہ قوانین کی تشریح آئین کے دائرہ کار میں رہ کر ہی کی جانی چاہیے۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر مزید گرما گرم بحث کی توقع کی جا رہی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پارلیمانی سیکریٹریٹ کے درمیان طریقہ کار کو مزید واضح کرنے کے لیے نئے قواعد و ضوابط پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔ اگر تمام اسٹیک ہولڈرز نے سیاسی تحمل کا مظاہرہ نہ کیا تو اس قسم کے تنازعات سے جمہوری اداروں کے وقار کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آئین کی روح کے مطابق تمام ادارے اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر فرائض سر انجام دیں تاکہ ملک کو درپیش معاشی اور سیاسی بحرانوں سے نکالا جا سکے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp