سندھ پبلک سروس کمیشن میں مبینہ بے ضابطگیوں کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا آغاز، شفافیت کے تقاضوں پر سوالات
سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحانات اور بھرتیوں کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں پر اعلیٰ سطحی تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد امتحانی نظام میں شفافیت بحال کرنا ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر سندھ پبلک سروس کمیشن میں بھرتیوں کے عمل اور امتحانات کے انعقاد کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں، میرٹ کی خلاف ورزی اور اقربا پروری کی شکایات کے بعد باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کمیشن کے ذریعے ہونے والے مختلف مسابقتی امتحانات اور اہم انتظامی نشستوں پر تعیناتیوں کے حوالے سے امیدواروں اور سول سوسائٹی کی جانب سے سنگین تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ ان شکایات میں پرچوں کی جانچ پڑتال، انٹرویو کے مراحل میں غیر ضروری جانبداری اور نتائج کے اعلان میں تاخیر جیسے امور سرِ فہرست ہیں۔ صوبائی انتظامیہ نے معاملے کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے انکوائری کمیٹی کو ذمہ داریاں سونپی ہیں تاکہ ریکارڈ کی تفصیلی جانچ پڑتال کر کے اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔ اس سے قبل بھی صوبائی کمیشن ماضی میں ایسے تنازعات کا شکار رہا ہے، جس کی وجہ سے عدالتی مداخلت بھی عمل میں لائی جا چکی ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات پبلک سروس کمیشن جیسے کلیدی ادارے میں بدانتظامی کا اثر محض امتحانی نظام تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے دور رس منفی اثرات ملکی معیشت اور تجارتی ڈھانچے پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ جب میرٹ کی پامالی کے ذریعے غیر تربیت یافتہ اور نااہل افراد مالیاتی، تجارتی، ریونیو اور ضلعی انتظامیہ کے اہم عہدوں پر فائز ہوتے ہیں، تو تجارتی پالیسیوں کے نفاذ اور ٹیکس وصولی کے نظام میں سنگین نقائص جنم لیتے ہیں۔ تاجر برادری، ریٹیلرز اور سرمایہ کاروں کو ناقص انتظامی فیصلوں کے باعث بیوروکریٹک رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ باصلاحیت اور ہنرمند نوجوانوں میں مایوسی بڑھنے سے انسانی سرمائے کا ضیاع ہوتا ہے، جو براہ راست معاشی نمو کو متاثر کرتا ہے۔ شفاف انتظامیہ ہی مستحکم معاشی ماحول کی ضامن ہوتی ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل معاملے پر مختلف حلقوں کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ متاثرہ امیدواروں اور قانونی ماہرین کا موقف ہے کہ کمیشن کے امتحانی طریقہ کار کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کر کے مکمل طور پر خودمختار بنایا جائے تاکہ بدعنوانی کے تمام راستے مسدود ہو سکیں۔ دوسری جانب، سندھ پبلک سروس کمیشن کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ ادارے کا پورا نظام قواعد و ضوابط کے تابع ہے اور بے ضابطگیوں کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ تاہم، انہوں نے شفافیت ثابت کرنے کی خاطر تحقیقاتی عمل میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ سول سوسائٹی کے نمائندوں نے زور دیا ہے کہ احتساب کا عمل بغیر کسی سیاسی مداخلت کے مکمل کیا جائے تاکہ نوجوانوں کا ریاستی اداروں پر اعتماد بحال ہو سکے۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ دنوں میں توقع کی جا رہی ہے کہ انکوائری کمیٹی اپنی ابتدائی رپورٹ مجاز حکام کو پیش کرے گی، جس کے بعد مبینہ بے ضابطگیوں میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت تادیبی اقدامات ممکن ہیں۔ مستقبل میں امتحانی نظام کو شفاف بنانے کے لیے آن لائن مانیٹرنگ اور بائیو میٹرک تصدیق جیسے اصلاحاتی اقدامات نافذ کیے جانے کا امکان ہے۔ اگر نظام میں بنیادی اصلاحات نہ لائی گئیں تو یہ معاملہ دوبارہ اعلیٰ عدالتوں میں جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد محکموں میں بھرتیوں کا عمل تعطل کا شکار ہو جائے گا، جو صوبائی انتظامی کارکردگی پر منفی اثر ڈالے گا۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp