Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

سیکیورٹی بریفنگ کا پی ٹی آئی کی جانب سے بائیکاٹ اور قومی سلامتی کے معاشی اثرات پر طارق فضل چوہدری کا اظہار خیال

وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے اپوزیشن کی جانب سے دہشت گردی سے متعلق سیکیورٹی بریفنگ کے بائیکاٹ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی سلامتی جیسے حساس معاملات پر سیاست معیشت اور استحکام کے لیے تباہ کن ہے۔

سیکیورٹی بریفنگ کا پی ٹی آئی کی جانب سے بائیکاٹ اور قومی سلامتی کے معاشی اثرات پر طارق فضل چوہدری کا اظہار خیال

اہم ترین حقائق و پس منظر وفاقی دارالحکومت میں مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما اور وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران انکشاف کیا کہ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے دہشت گردی کی حالیہ لہر اور سیکیورٹی صورتحال پر پارلیمانی قیادت کو دی گئی بریفنگ کا پاکستان تحریک انصاف نے مکمل بائیکاٹ کیا۔ طارق فضل چوہدری کے مطابق دہشت گردی کے خلاف قومی یکجہتی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں جب ملک کے مختلف حصوں میں سیکیورٹی چیلنجز سر اٹھا رہے ہیں۔ بریفنگ کا مقصد تمام سیاسی دھاروں کو قومی حکمت عملی پر اعتماد میں لینا تھا تاکہ مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دیا جا سکے۔ تاہم، تحریک انصاف کے بائیکاٹ نے پارلیمانی عمل اور قومی سلامتی کی اجتماعی ذمہ داری پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔

تجارتی و معاشی اثرات قومی سلامتی اور معاشی استحکام ایک دوسرے سے لازم و ملزوم ہیں۔ سیکیورٹی امور پر سیاسی قیادت کی باہمی چپقلش اور بائیکاٹ کی خبریں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید دھچکا پہنچاتی ہیں۔ تجارتی و صنعتی حلقوں کا ماننا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف غیر مبہم اور متفقہ قومی موقف کی عدم موجودگی سے پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری متاثر ہو سکتی ہے۔ معاشی ماہرین اور تاجر برادری کا کہنا ہے کہ امن و امان کی غیر یقینی صورتحال سے کاروباری سرگرمیاں سست روی کا شکار ہوتی ہیں، جس کا براہِ راست اثر روپے کی قدر، اسٹاک ایکسچینج کے رجحانات اور عام صارف اشیاء کی ترسیلی لاگت پر پڑتا ہے۔ سرمایہ کار ایسے ماحول کو ترجیح دیتے ہیں جہاں طویل مدتی پالیسی تسلسل اور سیکیورٹی تعاون موجود ہو۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے حکومت کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ قومی مفادات ذاتی یا جماعتی مفادات سے بالا تر ہونے چاہئیں۔ انہوں نے تحریک انصاف کے رویے کو غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ پارلیمان ہی مسائل کے حل کا بنیادی فورم ہے۔ دوسری جانب تحریک انصاف کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت پارلیمانی اقدار اور بنیادی جمہوری حقوق کی پامالی کر رہی ہے، جس کی وجہ سے ایسے مشترکہ اجلاسوں کی افادیت مشکوک ہو چکی ہے۔ ادھر کاروباری و صنعتی تنظیموں نے دونوں فریقین سے اپیل کی ہے کہ ملک کو سنگین مالی و سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، لہٰذا سیاسی کشیدگی ختم کر کے ملکی بقا اور معاشی استحکام کو اولیت دی جائے۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ چند ہفتے ملکی سیاسی اور سیکیورٹی منظرنامے کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔ اگر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان قومی سلامتی جیسے اساسی معاملات پر اتفاق رائے پیدا نہ ہو سکا تو سیکیورٹی پالیسی کے مؤثر نفاذ میں رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق معاشی بحالی کا انحصار داخلی سلامتی پر ہے، اور اگر امن و امان کے روڈ میپ پر مکمل قومی یکجہتی نہ دکھائی گئی تو بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور ممکنہ سرمایہ کاروں کی ہچکچاہٹ برقرار رہے گی۔ حکومت کو اپوزیشن کو اعتماد میں لینے اور پارلیمانی مکالمہ بحال کرنے کے لیے سنجیدہ سفارتی اقدامات کرنا ہوں گے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
سیکیورٹی بریفنگ کا پی ٹی آئی کی جانب سے بائیکاٹ اور قومی سلامتی کے معاشی اثرات پر طارق فضل چوہدری کا اظہار خیال