Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

سیاسی مذاکرات کا تعطل اور اس کے ملکی معیشت پر اثرات: سلمان اکرم راجہ کے الزامات کا جائزہ

پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما سلمان اکرم راجہ نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومتی حلقوں نے مذاکرات کو دانستہ طور پر ناکام بنایا، جس سے ملکی معاشی بے یقینی مزید گہری ہو گئی ہے۔

سیاسی مذاکرات کا تعطل اور اس کے ملکی معیشت پر اثرات: سلمان اکرم راجہ کے الزامات کا جائزہ

اہم ترین حقائق و پس منظر پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور معروف قانون دان سلمان اکرم راجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ سیاسی تعطل کے خاتمے کے لیے پس پردہ یا اعلانیہ ہونے والی بات چیت کو حکومتی نااہلی اور عدم سنجیدگی کی وجہ سے جان بوجھ کر ناکام بنایا گیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں آئینی بحران اور بڑھتی ہوئی محاذ آرائی کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی تمام کوششوں پر پانی پھیر دیا گیا۔ حالیہ مہینوں کے دوران ملکی سیاسی منظرنامہ جس شدید دھڑے بندی کا شکار رہا ہے، اس کے تناظر میں کسی وسیع البنیاد مفاہمت کی امید کی جا رہی تھی، تاہم فریقین کے مابین اعتماد کے فقدان اور سخت شرائط کے نفاذ نے مکالمے کی فضا کو سازگار نہ رہنے دیا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق دونوں جانب سے بیانات کی شدت اور قانونی چارہ جوئی کے اقدامات نے مصالحتی عمل کو آغاز سے قبل ہی مفلوج کر دیا تھا۔

تجارتی و معاشی اثرات سیاسی عدم استحکام اور مذاکراتی عمل کی ناکامی کے اثرات براہِ راست پاکستان کی معیشت، مالیاتی منڈیوں اور عمومی تجارتی فضا پر مرتب ہو رہے ہیں۔ روپے کی قدر پر دباؤ، غیر ملکی سرمایہ کاروں کی ہچکچاہٹ اور پالیسیوں کے تسلسل پر اٹھنے والے سوالات کاروباری برادری کے اعتماد کو مجروح کر رہے ہیں۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں غیر یقینی کی لہر اور ہول سیل سے لے کر ریٹیل سیکٹر تک خریداروں کی محتاط روش معاشی سرگرمیوں کو سست کر رہی ہے۔ تجارتی اداروں، درآمد کنندگان اور کسانوں کے لیے مسلسل بدلتی ہوئی صورتحال لاگت میں اضافے اور منصوبہ بندی میں دشواری کا سبب بن رہی ہے۔ افراط زر کے دباؤ کے دوران سیاسی خلفشار کا برقرار رہنا عام شہریوں اور چھوٹے تاجروں کے لیے معاشی بقا کی جنگ کو مزید دشوار بنا رہا ہے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل اپوزیشن اتحاد اور تحریک انصاف کے اکابرین کا کہنا ہے کہ ریاستی اداروں اور حکومتی اتحاد نے عوامی مینڈیٹ کے احترام اور آئینی حقوق کی فراہمی سے انکار کر کے معاملات کو بند گلی میں دھکیلا ہے۔ سلمان اکرم راجہ کے مطابق اگر حکومت سنجیدہ ہوتی تو مطالبات پر معقول پیش رفت ممکن ہو سکتی تھی۔ دوسری جانب حکومتی ترجمانوں کا استدلال ہے کہ اپوزیشن مذاکرات کے نام پر بلیک میلنگ اور غیر آئینی رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھی جس کی منظوری ممکن نہ تھی۔ حکومتی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ قانونی حدود میں رہ کر ہی گفتگو ہو سکتی ہے اور دباؤ کے ہتھکنڈے کسی صورت قبول نہیں کیے جائیں گے۔

مستقبل کا منظرنامہ موجودہ سیاسی کھنچاؤ کے پیش نظر مستقبل قریب میں کسی جامع پیش رفت کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر فریقین نے اپنی انتہا پسندانہ پوزیشنز میں نرمی پیدا نہ کی تو ملک مزید معاشی دلدل میں پھنس سکتا ہے۔ مالیاتی بحالی کے اقدامات اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ معاہدات کی کامیابی کا دارومدار اندرونی سیاسی استحکام پر ہے۔ آئندہ دنوں میں اپوزیشن کی ممکنہ احتجاجی تحریک اور اس کے مقابلے میں حکومتی انتظامی اقدامات ملکی فضا کو مزید تناؤ کا شکار کر سکتے ہیں، جس سے نمٹنے کے لیے باہمی مفاہمت کے سوا کوئی مستقل راستہ موجود نہیں۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
سیاسی مذاکرات کا تعطل اور اس کے ملکی معیشت پر اثرات: سلمان اکرم راجہ کے الزامات کا جائزہ