Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

پی ٹی آئی سے بیک ڈور رابطے جاری ہیں، ملکی معیشت اور سیاسی استحکام پر گہرے اثرات متوقع

وفاقی مشیر رانا ثناء اللہ نے انکشاف کیا ہے کہ تحریک انصاف کے ساتھ پس پردہ رابطے اب بھی جاری ہیں، جس سے ملکی سیاسی اور معاشی منظر نامے پر اہم اثرات پڑ رہے ہیں۔

پی ٹی آئی سے بیک ڈور رابطے جاری ہیں، ملکی معیشت اور سیاسی استحکام پر گہرے اثرات متوقع

اہم ترین حقائق و پس منظر اسلام آباد میں سیاسی گلیاروں میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ حکمران اتحاد اور اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف کے مابین تعلقات میں مکمل تعطل کے باوجود پس پردہ مواصلاتی ذرائع فعال ہیں۔ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ کے اس بیان نے نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان بیک ڈور رابطے کسی نہ کسی سطح پر اب بھی قائم ہیں۔ یہ رابطے ایسے وقت میں جاری ہیں جب ملک کو شدید سیاسی اور معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔ مبصرین کے مطابق، طویل مدتی محاذ آرائی سے گریز کے لیے دونوں جانب سے درمیانی راستہ تلاش کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، تاہم عوامی سطح پر تلخ بیان بازی بدستور برقرار ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات ملکی معیشت پر سیاسی بے یقینی کے اثرات انتہائی گہرے اور دور رس ہیں۔ سرمایہ کار برادری ہمیشہ سیاسی استحکام کو اولین ترجیح دیتی ہے، اور موجودہ کشیدگی کی وجہ سے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری سست روی کا شکار ہے۔ ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ، اسٹاک ایکسچینج میں بے یقینی اور مہنگائی کے دباؤ نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ تاجر برادری کا کہنا ہے کہ جب تک سیاسی فضا سازگار نہیں ہوتی، کاروباری سرگرمیاں پٹری پر نہیں آ سکتیں۔ ریٹیلرز اور صنعتی شعبے کو پیداواری لاگت میں اضافے اور طلب میں کمی کا سامنا ہے، جو براہ راست سیاسی کشیدگی کا شاخسانہ ہے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل حکومتیحلقوں کا مؤقف ہے کہ سیاسی استحکام کے لیے مذاکرات کے دروازے کبھی بند نہیں کیے گئے، لیکن قانون شکنی کرنے والوں کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ دوسری جانب، پاکستان تحریک انصاف کا مؤقف ہے کہ جب تک ان کے مطالبات اور جائز سیاسی حقوق تسلیم نہیں کیے جاتے، کسی بھی قسم کی مفاہمت کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ دونوں فریقین کے اس تضاد نے سیاسی ڈیڈ لاک کو مزید طویل کر دیا ہے، جس سے جمہوری اداروں پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ تاجر تنظیموں اور سول سوسائٹی نے دونوں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور قومی مفاد میں بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ دنوں میں اگر ان بیک ڈور رابطوں نے باضابطہ مذاکرات کی شکل اختیار نہ کی تو معاشی بحالی کا عمل مزید سست پڑ سکتا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ طے پانے والے اہداف کے حصول کے لیے سیاسی اتفاق رائے ناگزیر ہے۔ اگر سیاسی قوتیں باہمی چپقلش کو پس پشت ڈال کر معیشت کی بہتری پر توجہ مرکوز نہ کریں تو مہنگائی اور بیروزگاری کے جن کو قابو میں رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ آنے والا وقت اس بات کا تعین کرے گا کہ سیاسی قیادت عقلِ کل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک کو بحران سے نکالتی ہے یا محاذ آرائی کا یہ سلسلہ مزید طویل ہوتا ہے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
پی ٹی آئی سے بیک ڈور رابطے جاری ہیں، ملکی معیشت اور سیاسی استحکام پر گہرے اثرات متوقع