Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

دہشت گردی کے پائیدار خاتمے کے لیے قومی ہم آہنگی ناگزیر ہے: رانا ثناء اللہ

وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کے دیرپا خاتمے کے لیے تمام طبقات اور سیاسی قوتوں کا ایک صفحے پر ہونا قومی تقاضا ہے۔

دہشت گردی کے پائیدار خاتمے کے لیے قومی ہم آہنگی ناگزیر ہے: رانا ثناء اللہ

اہم ترین حقائق و پس منظر وفاقی حکومت کے سینئر رہنما اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے اپنے ایک اہم بیان میں باور کرایا ہے کہ ملک سے دہشت گردی، شدت پسندی اور بدامنی کا جڑ سے خاتمہ تب ہی ممکن ہے جب قوم کے تمام طبقات اور سیاسی قوتیں اس پر مکمل ہم خیال ہوں۔ حالیہ مہینوں کے دوران خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے ایک بار پھر قومی سلامتی کے تقاضوں کو اولین ترجیح بنا دیا ہے۔ عسکری اور سیاسی قیادت اس بات پر متفق ہے کہ جب تک ریاست کا ہر ادارہ اور سول سوسائٹی ایک مشترکہ بیانیے پر کاربند نہیں ہوگی، اس ناسور پر مکمل قابو پانا دشوار رہے گا۔ رانا ثناء اللہ نے واضح کیا کہ ریاست دہشت گردوں کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر گامزن ہے اور اس مہم میں عوامی تائید ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات معاشی ماہرین اور کاروباری حلقوں کے مطابق امن و امان کی نازک صورتحال کے براہ راست اثرات ملکی معیشت، تجارتی سرگرمیوں اور بیرونی سرمایہ کاری پر پڑتے ہیں۔ پاکستان کی تاجر برادری بشمول ریٹیلرز اور ہول سیلرز اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ عدم استحکام سے مارکیٹ کا اعتماد مجروح ہوتا ہے، رسد کی ترسیل متاثر ہوتی ہے اور لاگت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ پائیدار امن کے بغیر سی پیک کے مغربی روٹس اور بلوچستان و کے پی کے تجارتی راستوں کو مکمل طور پر فعال نہیں رکھا جا سکتا۔ سیکیورٹی صورتحال میں بہتری بیرونی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی، اسٹاک ایکسچینج کے استحکام اور صنعتی ترقی کے لیے کلیدی شرط ہے، جس کے بغیر معاشی بحالی کا کوئی بھی منصوبہ دیرپا نتائج نہیں دے سکتا۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل حکومتی موقف کے مطابق دہشت گردی کسی ایک جماعت یا صوبے کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ پورے ملک کی بقا کا معاملہ ہے، جس پر کسی قسم کی تفریق یا تاخیر کی گنجائش نہیں۔ دوسری جانب حزب اختلاف کی جماعتوں نے بھی دہشت گردی کے خلاف قومی یکجہتی کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے، البتہ ان کا اصرار ہے کہ پارلیمان کو ہر فیصلے میں اعتماد میں لیا جائے اور قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں پر مکمل شفافیت کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے۔ تاجر تنظیموں اور چیمبرز آف کامرس نے رانا ثناء اللہ کے موقف کی توثیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی سطح پر ایک واضح پالیسی اپنانا ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ تجارتی مراکز اور صنعتی زونز خوف و ہراس سے آزاد ماحول میں پیداواری عمل جاری رکھ سکیں۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ دنوں میں حکومت کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس یا پارلیمانی قیادت کے مشترکہ اجلاس کے انعقاد کے امکانات روشن ہیں تاکہ دہشت گردی کے خلاف ایک ٹھوس اور جامع قومی لائحہ عمل تشکیل دیا جا سکے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کو تیز تر کرنا ہوگا، جبکہ سرحدی نگرانی کے نظام کو بھی مزید جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت پیش آئے گی۔ اگر سیاسی قیادت تمام تر اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اس معاملے پر یکسو ہو جاتی ہے تو نہ صرف ملک میں امن و امان بحال ہوگا بلکہ پاکستان معاشی بحران کے گرداب سے نکل کر پائیدار ترقی کے سفر پر گامزن ہو سکے گا۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
دہشت گردی کے پائیدار خاتمے کے لیے قومی ہم آہنگی ناگزیر ہے: رانا ثناء اللہ