مذاکرات میں حکومت کا رویہ مثبت ہے، مسائل کا افہام و تفہیم سے حل ناگزیر ہے، راجا ناصر عباس
مذاکراتی عمل میں حکومتی رویے کو سراہتے ہوئے قائدین نے امید ظاہر کی ہے کہ تمام معاشی و سیاسی مسائل کا حل باہمی گفت و شنید کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر موجودہ ملکی سیاسی و معاشی منظر نامے میں حکومت اور مختلف سیاسی و مذہبی حلقوں کے درمیان جاری مذاکرات کا عمل ایک اہم موڑ پر پہنچ چکا ہے۔ حالیہ دنوں میں فریقین کے درمیان ہونے والی نشستوں میں کشیدگی کم کرنے اور قومی مفاہمت کو فروغ دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس پس منظر میں راجا ناصر عباس کا یہ بیان انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ حکومت کا رویہ مذاکرات کے دوران مناسب رہا ہے اور اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ تمام امور کو افہام و تفہیم کے ذریعے طے کیا جائے۔ پاکستان کی تاریخ میں جب بھی سیاسی بحرانم سر اٹھایا ہے، معیشت اور تجارت کو براہ راست نقصان پہنچا ہے، جس کے پیش نظر سنجیدہ حلقے ہمیشہ بات چیت کو ہی واحد حل قرار دیتے ہیں۔
تجارتی و معاشی اثرات ملکی معیشت اس وقت جن چیلنجز سے دوچار ہے، اس میں سیاسی غیر یقینی کی گنجائش بالکل موجود نہیں۔ سیاسی استحکام براہ راست کاروباری اعتماد، سرمایہ کاری اور مارکیٹ کے رویوں کو متاثر کرتا ہے۔ جب مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھتے ہیں تو اسٹاک ایکسچینج سے لے کر عام ریٹیل مارکیٹ تک ایک تسلی بخش فضا پیدا ہوتی ہے۔ تاجر برادری اور صنعت کاروں کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ ہڑتالوں، دھرنوں اور محاذ آرائی سے ناصرف تجارتی سپلائی چین متاثر ہوتی ہے بلکہ عام صارف کے لیے مہنگائی کا بوجھ بھی بڑھ جاتا ہے۔ موجودہ مذاکرات اگر کامیاب ہوتے ہیں تو اس سے تجارتی سرگرمیوں کو نیا فروغ ملے گا اور معاشی اعشاریوں میں بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل مذاکراتی عمل میں شریک فریقین کی جانب سے لچک کا مظاہرہ کیا جانا خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔ حکومت کی طرف سے بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے اور اپوزیشن یا دیگر اسٹیک ہولڈرز کے جائز مطالبات پر غور کرنے کے اشارے ملے ہیں۔ راجا ناصر عباس کا یہ بیان کہ فریقین مثبت نتائج کے حصول کے لیے پرعزم ہیں، اس بات کا غماز ہے کہ دونوں اطراف سے تنازعات کو طول دینے کے بجائے مصالحتی راہ اپنانے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ معاشی ماہرین اور سول سوسائٹی نے بھی فریقین کے اس رویے کو سراہتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ قومی مفاد کو ذاتی یا سیاسی اختلافات پر فوقیت دی جائے گی۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ چند روز ملک کی سیاسی و معاشی سمت متعین کرنے میں انتہائی فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔ اگر مذاکرات کا یہ سلسلہ کامیابی کے ساتھ اپنے انجام کو پہنچتا ہے تو اس سے نہ صرف سیاسی کشیدگی میں کمی آئے گی بلکہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے سامنے بھی ملک کا ایک مثبت اور مستحکم تشخص ابھرے گا۔ حکومت اور متعلقہ فریقین کو چاہیے کہ وہ دیرپا حل کے لیے ایک جامع لائحہ عمل تیار کریں تاکہ بار بار پیدا ہونے والے سیاسی بحرانوں سے معیشت کو محفوظ بنایا جا سکے اور عام آدمی کے لیے ریلیف کے راستے ہموار ہوں۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp