معاشی استحکام اور کاروباری آسانی کے لیے جامع ریگولیٹری اصلاحات ناگزیر ہیں، وزیراعظم کا اعلان
وزیراعظم نے ملک میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور سرمایہ کاری کے راستے میں حائل ریگولیٹری رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے جامع اصلاحات کا اعلان کیا ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر اسلام آباد میں معاشی امور کے حوالے سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے واضح کیا ہے کہ ملکی معیشت کے استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے تجارتی اور صنعتی شعبوں میں فوری نوعیت کی ریگولیٹری اصلاحات ناگزیر ہیں۔ حالیہ برسوں کے دوران ملکی معیشت کو جن چالشوں کا سامنا رہا ہے، ان میں پیچیدہ ضابطہ کار اور بیوروکریٹک رکاوٹیں سر فہرست ہیں۔ حکومتی سطح پر یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ جب تک نجی شعبے کے لیے آسانیاں پیدا نہیں کی جاتیں، اس وقت تک ملکی پیداوار اور برآمدات میں مطلوبہ اضافہ ناممکن ہے۔ اس پس منظر میں حکومت نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کاروباری قوانین کا از سر نو جائزہ لیں اور غیر ضروری ضوابط کو ختم کریں۔
تجارتی و معاشی اثرات ان اصلاحات کا براہ راست اثر ملک کی تجارتی منڈی اور صنعتی پیداوار پر پڑے گا۔ طویل عرصے سے تاجر برادری اور سرمایہ کار اس بات کی شکایت کرتے آئے ہیں کہ پیچیدہ ٹیکس نظام، لائسنسنگ کے طویل مراحل اور مختلف محکموں کے درمیان عدم تعاون کی وجہ سے کاروبار کرنا مشکل ہو چکا ہے۔ ریگولیٹری اصلاحات کے نفاذ سے نہ صرف کاروباری لاگت میں کمی آئے گی بلکہ مارکیٹ میں مسابقتی ماحول بھی فروغ پائے گا۔ اس اقدام سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام اور ریٹیل سیکٹر میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے، جس کا بالواسطہ فائدہ عام صارف کو پہنچے گا۔ ماہرین معاشیات کا ماننا ہے کہ اس سے ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی راہ ہموار ہوگی۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل کاروبار اور صنعت سے وابستہ مختلف تنظیموں نے وزیراعظم کے اس اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ ইন্ডাস্টری (ایف پی سی سی آئی) اور دیگر تجارتی تنظیموں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ اگر ان ہدایات پر روح کے مطابق عمل درآمد کیا گیا تو یہ پاکستانی معیشت کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہوگا۔ تاہم، تاجر برادری کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ پالیسی سازی کے عمل میں نجی شعبے کو بنیادی شراکت دار بنایا جائے تاکہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جا سکیں۔ دوسری جانب، سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ تمام وزارتوں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ تجارتی آسانی (ایز آف ڈوئنگ بزنس) کے اشاریوں کو بہتر بنانے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کریں۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران حکومت کی طرف سے ریگولیٹری اصلاحات کے پہلے مرحلے کا باقاعدہ اعلان متوقع ہے۔ اس عمل میں ڈیجیٹلائزیشن اور ون ونڈو آپریشنز کے قیام کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی تاکہ کاروباری حضرات کو دفاتر کے چکر نہ کاٹنے پڑیں۔ اگر یہ اصلاحات مؤثر انداز میں نافذ ہو جاتی ہیں تو اس سے نہ صرف پاکستان کی عالمی معاشی درجہ بندی میں بہتری آئے گی بلکہ بے روزگاری میں کمی اور معاشی نمو کی شرح میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp