سیاسی کشیدگی اور معاشی جمود: مذاکرات کی ناکامی پر حکومتی اور اپوزیشن مؤقف کا تجزیہ
مذاکرات کی ناکامی کے بعد حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں میں کشیدگی بڑھ گئی ہے، جس کے ملکی معیشت اور تجارت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

اہم ترین حقائق و پس منظر اسلام آباد میں جاری سیاسی رسہ کشی کے دوران حکومتی رہنما طلال چوہدری کا یہ بیان سامنے آیا ہے کہ اپوزیشن نے جان بوجھ کر سیاسی مذاکرات کو نتیجہ خیز نہیں بننے دیا۔ ملک میں طویل عرصے سے جاری سیاسی عدم استحکام نے نہ صرف حکومتی امور کو متاثر کیا ہے بلکہ اس کے گہرے اثرات قومی معیشت پر بھی پڑ رہے ہیں۔ ماضی میں بھی کئی بار فریقین کے درمیان بات چیت کے دروازے کھلنے کی امید بندھی لیکن خلیج کم نہ ہو سکی۔ موجودہ صورتحال میں بنیادی تنازعہ انتخابی اصلاحات، معاشی پالیسیوں اور اقتدار کی رسہ کشی کے گرد گھومتا ہے، جہاں دونوں اطراف سے لچک دکھانے کے بجائے مورچہ بند سیاست کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات کسی بھی ملک میں معاشی خوشحالی کے لیے سیاسی استحکام بنیادی شرط ہوتا ہے۔ پاکستان کی منڈیوں، کاروباری طبقے اور بالخصوص ریٹیلرز کو موجودہ غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سرمایہ کار نئی سرمایہ کاری سے گریزاں ہیں جبکہ روپے کی قدر اور افراط زر کے دباؤ نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ سیاسی تصادم کی فضا کے باعث بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں میں بھی منفی پیغام جا رہا ہے، جس سے برآمدات اور تجارتی خسارے پر برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ کاروباری برادری بارہا یہ مطالبہ کر چکی ہے کہ سیاستدان اپنی ذاتی اور گروہی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر معیشت کو ترجیح دیں۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل حکومتی ترجمانوں اور رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ انہوں نے بارہا مصالحت اور مذاکرات کی پیشکش کی لیکن اپوزیشن کا مقصد صرف احتجاج اور انتشار پھیلانا ہے۔ طلال چوہدری کے مطابق اپوزیشن کسی آئینی یا قانونی حل میں دلچسپی نہیں رکھتی بلکہ وہ ملک کو اقتصادی بحران کی طرف دھکیلنا چاہتی ہے۔ دوسری جانب، اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ حکومت مذاکرات کی آڑ میں ان کے مطالبات کو دبانا چاہتی ہے اور جمہوریت کی روح کو مجروح کر رہی ہے۔ اپوزیشن کا اصرار ہے کہ شفاف انتخابات اور عوامی مینڈیٹ کی بحالی کے بغیر ملک میں کسی بھی قسم کا اقتصادی یا سیاسی سکون ممکن نہیں۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ آنے والے دنوں میں اگر سیاسی فریقین نے تحمل کا مظاہرہ نہ کیا تو ملک مزید گہرے بحران کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ عدلیہ، پارلیمنٹ اور دیگر ریاستی اداروں کو مل بیٹھ کر ایک ایسا لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے جو فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کا ضامن ہو۔ اگر موجودہ ڈیڈ لاک برقرار رہا تو نہ صرف معاشی اصلاحات کا عمل سست پڑ جائے گا بلکہ عام انتخابات کے بعد قائم ہونے والی حکومت کو بھی شدید گورننس کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے ایک وسیع تر چارٹر آف اکانومی اور سیاسی مفاہمت پر اتفاق کیا جائے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp