وزیر اعظم شہباز شریف کا ایک روزہ دورہ پشاور، امن و امان اور قبائلی اضلاع کے معاشی پیکج پر اہم فیصلے متوقع
وزیر اعظم شہباز شریف پشاور کا ایک روزہ دورہ کر رہے ہیں جہاں وہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بحالی اور تجارتی استحکام کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاسوں کی صدارت کریں گے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر وفاقی دارالحکومت سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق وزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف آج صوبائی دارالحکومت پشاور کا اہم ایک روزہ سرکاری دورہ کر رہے ہیں۔ دورے کے دوران وزیر اعظم خیبر پختونخوا میں سکیورٹی کی تازہ ترین صورتحال، دہشت گردی کے خلاف جاری اقدامات اور وفاقی ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔ پشاور آمد پر وہ گورنر ہاؤس اور متعلقہ حکام سے ملاقاتیں کریں گے جہاں کور کمانڈر پشاور اور سکیورٹی اداروں کے اعلیٰ حکام کی جانب سے صوبے کے امن و امان اور افغان سرحد کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی جائے گی۔ اس دورے کا ایک بنیادی پہلو ضم شدہ قبائلی اضلاع میں سست روی کا شکار ترقیاتی منصوبوں کو دوبارہ فعال بنانا اور صوبائی حکومت و وفاق کے مابین انتظامی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات خیبر پختونخوا کے صنعتی و تجارتی حلقوں کی نظریں وزیر اعظم کے اس دورے پر مرکوز ہیں۔ خطے میں بدامنی کے خدشات اور سرحد پر تجارتی تعطل نے مقامی ہول سیل اور ریٹیل مارکیٹس کو شدید متاثر کیا ہے۔ پشاور کی تجارتی منڈیوں، بالخصوص نمک منڈی اور کارخانو مارکیٹ میں اشیائے خوردونوش اور سپلائی چین کی ترسیل کے مسائل زیرِ بحث ہیں۔ ماہرینِ معاشیات کے مطابق اگر وزیر اعظم کی جانب سے طورخم اور شمالی وزیرستان کے راستوں پر پاک افغان دوطرفہ تجارت کو آسان بنانے اور مقامی صنعتوں کے لیے خصوصی مراعات کا اعلان کیا جاتا ہے، تو اس سے پشاور سمیت پورے صوبے میں کاروباری اعتماد بحال ہو گا۔ نقل و حمل کے اخراجات میں کمی اور سکیورٹی اقدامات کی بہتری صوبے میں گرتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں کو نئی جلا بخش سکتی ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل وفاقی حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کا دورہ اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وفاق خیبر پختونخوا کو درپیش سکیورٹی اور مالی بحران میں اکیلا نہیں چھوڑے گا اور قومی ترجیحات میں صوبے کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ دوسری جانب پشاور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ امن کے بغیر معاشی سرگرمیاں پروان نہیں چڑھ سکتیں، اس لیے وفاقی حکومت کو تاجروں کے جان و مال کے تحفظ کے ساتھ ساتھ صوبے کے بجلی اور گیس کے بقایاجات کا مسئلہ بھی حل کرنا چاہیے۔ صوبائی قیادت کی جانب سے بھی این ایف سی ایوارڈ اور ضم اضلاع کے ترقیاتی فنڈز کے فوری اجراء کا مطالبہ سامنے آنے کا امکان ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دورہ محض رسمی نوعیت کا نہیں بلکہ آنے والے دنوں میں امن و امان کے حوالے سے فیصلہ کن اقدامات کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ وزیر اعظم کے اس دورے کے نتیجے میں انسدادِ دہشت گردی کے محکموں کے لیے اضافی وسائل اور پشاور کے انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے خصوصی گرانٹ کی منظوری دی جائے گی۔ طویل المدتی بنیادوں پر اگر وفاق اور صوبہ مشترکہ لائحہ عمل اپنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس سے نہ صرف خیبر پختونخوا میں ریاستی رٹ مضبوط ہوگی بلکہ وسطی ایشیا کے ساتھ تجارتی راہداریوں کے امکانات بھی روشن ہوں گے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp