وزیراعظم کا حافظ نعیم الرحمان سے رابطہ، معاشی استحکام کے تناظر میں مارچ مؤخر کرنے کی اپیل
وزیراعظم شہباز شریف نے جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے ملکی معاشی صورتحال کے پیش نظر احتجاجی مارچ ملتوی کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ کاروباری سرگرمیاں اور معاشی استحکام متاثر نہ ہو۔

اہم ترین حقائق و پس منظر ملکی سیاسی منظر نامے میں ایک اہم پیش رفت کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کو ٹیلیفون کیا اور موجودہ سیاسی و معاشی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس ٹیلی فونک رابطے کا بنیادی محور جماعت اسلامی کی طرف سے اعلان کردہ احتجاجی مارچ تھا، جسے حکومت کی جانب سے ملکی مفاد اور معاشی استحکام کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ ایسے وقت میں جب ملک کو اندرونی اور بیرونی معاشی چیلنجز کا سامنا ہے، کسی بھی قسم کے بڑے احتجاجی مظاہرے یا دھرنے ملک کے مثبت معاشی اشاریوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے اس موقع پر زور دیا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو قومی مفاد کو ترجیح دینی چاہیے اور تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے رکھنے چاہئیں۔
تجارتی و معاشی اثرات معاشی ماہرین اور کاروباری حلقوں نے اس رابطے کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی احتجاجی تحریک یا دھرنے سے براہ راست تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔ دارالحکومت اور بڑے شہروں میں شٹر ڈاؤن یا دھرنوں کی کال سے سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے، جس سے نہ صرف روزمرہ کی اشیاء کی نقل و حمل میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے بلکہ مہنگائی میں بھی اضافے کا اندیشہ رہتا ہے۔ ریٹیلرز، ہول سیلرز اور برآمد کنندگان ہمیشہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سیاسی استحکام معاشی ترقی کی بنیادی شرط ہے۔ اگر احتجاج موخر ہوتا ہے تو اس سے منڈیوں میں اعتماد کی فضا بحال ہوگی اور سرمایہ کاروں کو بھی ایک مثبت پیغام جائے گا کہ حکومت اور اپوزیشن یا دیگر سیاسی قوتیں ملکی معیشت کے تحفظ پر متفق ہیں۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل ححومتی ترجمان کے مطابق وزیراعظم نے گفتگو کے دوران اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوام کے مسائل کے حل کے لیے حکومت ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے اور مہنگائی میں کمی لانے کے لیے سنجیدہ اصلاحات جاری ہیں۔ دوسری جانب، جماعت اسلامی کی قیادت نے وزیراعظم کی جانب سے کی جانے والی اس درخواست کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پارٹی کے اندرونی مشاورتی اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جماعت اسلامی کا مؤقف رہا ہے کہ ان کا احتجاج بنیادی طور پر عوام کے حقوق، مہنگائی اور آئی پی پیز کے معاہدوں کے خلاف ہے، تاہم قومی مفاد اور معیشت کی بہتری کے حوالے سے وہ تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لے رہے ہیں تاکہ کوئی بھی فیصلہ ذمہ داری کے ساتھ کیا جا سکے۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ چند روز میں اس ٹیلی فونک رابطے کے نتائج سامنے آنے کی توقع ہے۔ اگر جماعت اسلامی حکومت کی درخواست پر احتجاجی مارچ کو ملتوی یا اس کی شکل تبدیل کرنے پر آمادہ ہوتی ہے تو اس سے وفاقی دارالحکومت میں ممکنہ کشیدگی کم ہوگی اور حکومت کو معاشی پالیسیوں پر توجہ مرکوز کرنے کا مزید موقع ملے گا۔ بصورت دیگر، اگر مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تو سیاسی محاذ آرائی میں اضافے کا خدشہ ہے جو آنے والے دنوں میں کاروباری اور معاشی سرگرمیوں پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ تمام نظریں اب جماعت اسلامی کی شوریٰ کے فیصلے پر مرکوز ہیں۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp