پشاور میں نجی تعلیمی ادارے کی چھت گرنے سے 21 طلبہ اور استانی جاں بحق، تعلیمی بنیادی ڈھانچے پر سنگین سوالات
پشاور میں اسکول کی خستہ حال چھت گرنے سے اکیس بچے اور ایک استانی جاں بحق ہو گئے، جس کے نتیجے میں تعمیراتی حفاظتی معیارات اور انتظامی غفلت پر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

اہم ترین حقائق و پس منظر خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے نواحی علاقے میں ایک دلخراش سانحہ اس وقت پیش آیا جب ایک نجی تعلیمی ادارے کی عمارت کی چھت اچانک زمین بوس ہو گئی۔ اس اندوہناک واقعے کے نتیجے میں کلاس روم میں زیرِ تعلیم اکیس کمسن بچے اور ان کی تدریسی خدمات انجام دینے والی ایک خاتون ٹیچر ملبے تلے دب کر جاں بحق ہو گئیں۔ ریسکیو اداروں کے مطابق حادثہ اسکول کے تدریسی اوقات کے دوران پیش آیا، جس وقت طلبہ معمول کے مطابق تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ مقامی آبادی اور ریسکیو اہلکاروں نے فوری طور پر بھاری مشینری اور روایتی طریقوں کی مدد سے امدادی کارروائیاں شروع کیں، تاہم ملبے کے نیچے شدید وزن اور گنجان پن کے باعث متعدد بچوں نے موقع پر ہی دم توڑ دیا۔ زخمی ہونے والے دیگر طلبہ کو فوری طور پر قریبی تدریسی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے، جہاں متعدد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق عمارت انتہائی خستہ حال تھی اور ناقص مٹیریل کے استعمال کے ساتھ ساتھ بارشوں کے بعد اس کی مرمت پر مناسب توجہ نہیں دی گئی تھی۔
تجارتی و معاشی اثرات اس المناک حادثے نے ملک میں نجی تعلیمی شعبے کے کاروباری ماڈل اور تعمیراتی سرگرمیوں کے معاشی پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ پاکستان بھر میں تیزی سے پھیلتے ہوئے نجی تعلیمی نیٹ ورکس کی جانب سے کم لاگت پر کرائے پر حاصل کی جانے والی مخدوش عمارتوں کے استعمال نے ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اس سانحے کے بعد تعلیمی شعبے میں ریگولیٹری سختیوں کے باعث نجی اسکولز مالکان کو عمارتوں کی بحالی، انشورنس اور لازمی فٹنس سرٹیفکیٹس کے حصول کے لیے اضافی سرمایہ کاری کرنی پڑے گی۔ مزید برآں، مقامی تعمیراتی منڈی میں سستے اور غیر معیاری تعمیراتی سامان بشمول ناقص سیمنٹ اور بغیر معیار کے سریے کی فروخت پر قدغن عائد ہونے کا امکان ہے، جس سے اس شعبے سے جڑے ٹھیکیداروں اور سپلائی چینز پر دباؤ بڑھے گا۔ تجارتی حلقوں کے مطابق اسکولوں کی جانچ پڑتال کے سخت اقدامات کی وجہ سے ریٹیل اور تعلیمی سروسز کی لاگت میں اضافہ متوقع ہے، جس کے اثرات بالآخر متوسط طبقے کی فیسوں پر مرتب ہوں گے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ عمارت کے نقشے، منظوری اور حفاظتی تقاضوں کی جانچ کی جا رہی ہے اور غفلت برتنے والے بلڈنگ انسپکٹرز اور اسکول مالکان کے خلاف فوجداری قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ دوسری جانب تاجر برادری اور چیمبر آف کامرس سے وابستہ افراد نے اس سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ نجی شعبے کو محض الزام تراشی کا نشانہ بنانے کے بجائے بلڈنگ کنٹرول اتھارٹیز اور کرپشن کے خاتمے پر توجہ دی جائے۔ سول سوسائٹی اور طلبہ کے والدین نے الزام عائد کیا ہے کہ انتظامیہ نجی اسکولوں سے بھاری رجسٹریشن فیس وصول کرنے کے باوجود ان کے حفاظتی معیارات کی باقاعدہ جانچ پڑتال کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ دنوں میں صوبائی سطح پر تمام نجی و سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کے جامع اسٹرکچرل آڈٹ کا آغاز متوقع ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حکومت نجی اسکولوں کے لیے بلڈنگ سیفٹی ایکٹ کے نفاذ کو لازمی قرار دے گی، جس کے بغیر کسی ادارے کو تدریسی عمل جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ طویل مدتی تناظر میں یہ سانحہ تعلیمی شعبے میں بنیادی ڈھانچے کے بجٹ میں اضافے اور تعمیراتی معیارات کے سخت نفاذ کی راہ ہموار کرے گا، تاہم اس کا انحصار اس امر پر ہوگا کہ تحقیقات شفاف انداز میں اپنے انجام کو پہنچیں اور ذمہ دار عناصر کو قرار واقعی سزا دی جائے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp