Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

پشاور میں مسلسل دوسرے روز راستوں کی بندش، ریڈ زون سیل ہونے سے تجارتی اور شہری معمولات شدید متاثر

پشاور میں امن و امان کے پیش نظر ریڈ زون سمیت متعدد اہم شاہراہیں مسلسل دوسرے روز بھی بند رہیں، جس کے باعث تجارتی ترسیل اور شہری معمولات سخت متاثر ہوئے ہیں۔

پشاور میں مسلسل دوسرے روز راستوں کی بندش، ریڈ زون سیل ہونے سے تجارتی اور شہری معمولات شدید متاثر

اہم ترین حقائق و پس منظر خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں امن و امان کی بدلتی ہوئی صورتحال اور احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر مسلسل دوسرے روز بھی شہر کی مرکزی شاہراہیں اور حساس علاقے آمد و رفت کے لیے بند رکھے گئے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے، جہاں کنٹینرز، خاردار تاریں اور اضافی پولیس نفری تعینات کر کے سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں۔ پشاور کے مرکزی داخلی و خارجی راستوں، خیبر روڈ اور جی ٹی روڈ کے متعدد حصوں پر رکاوٹیں کھڑی ہونے کے باعث عام شہریوں اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس غیر معمولی بندش نے صوبائی دارالحکومت کے باقاعدہ انتظامی اور شہری ڈھانچے کو جزوی طور پر معطل کر دیا ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات راستوں کی طویل بندش کے براہ راست اثرات پشاور کی تجارتی و کاروباری سرگرمیوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ اشیائے خورونوش، خام مال اور تجارتی سامان کی ترسیل رک جانے سے ہول سیل اور ریٹیل مارکیٹوں میں سامان کی قلت کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ بالخصوص تاریخی قصہ خوانی بازار، کارخانو مارکیٹ اور یونیورسٹی روڈ کے تجارتی مراکز میں گاہکوں کی آمد نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے، جس سے تاجروں کو کروڑوں روپے کے یومیہ نقصانات کا سامنا ہے۔ کلیار ٹریڈرز کے تجارتی جائزہ کے مطابق، سڑکوں کی بندش سے نہ صرف اندرونِ شہر سپلائی چین متاثر ہوئی ہے بلکہ افغانستان کے ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ اور بین الصوبائی مال برداری کا سلسلہ بھی عارضی تعطل کا شکار ہوا ہے، جس سے لاجسٹکس لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور حساس تنصیبات کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر تھے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہائی الرٹ رکھا گیا ہے۔ دوسری جانب مقامی تاجر تنظیموں اور چیمبر آف کامرس نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تاجر نمائندوں کا کہنا ہے کہ طویل المدتی ناکہ بندیاں معیشت کو تباہ کر رہی ہیں، اس لیے حکومت اور سیکیورٹی ادارے جلد از جلد مذاکرات یا متبادل حفاظتی راستوں کے ذریعے کاروباری مراکز تک رسائی بحال کریں۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ چوبیس سے اڑتالیس گھنٹے پشاور کی صورتحال کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔ اگر کشیدگی اور احتجاج کی کالز برقرار رہیں تو راستوں کی بندش میں مزید توسیع کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم، عوامی مشکلات اور معاشی دباؤ کے پیش نظر یہ توقع بھی ظاہر کی جا رہی ہے کہ انتظامیہ ریڈ زون سے باہر کے علاقوں میں ٹریفک کی جزوی بحالی کے لیے متبادل پلان جاری کرے گی۔ پائیدار معاشی استحکام اور شہری سکون کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی و انتظامی مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کر کے صوبائی دارالحکومت کی معمول کی زندگی جلد از جلد بحال کی جائے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
پشاور میں مسلسل دوسرے روز راستوں کی بندش، ریڈ زون سیل ہونے سے تجارتی اور شہری معمولات شدید متاثر