پشاور میں نجی اسکول کی چھت گرنے کی تحقیقاتی رپورٹ جاری، عمارت کا نقشہ سرکاری ریکارڈ میں غائب
پشاور میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے، جس کے مطابق عمارت کا نقشہ سرکاری ریکارڈ میں سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔

اہم ترین حقائق و پس منظر خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں نجی اسکول کی خستہ حال چھت گرنے کے افسوسناک واقعے کے بعد ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کی جانب سے تیار کردہ جامع تحقیقاتی رپورٹ باضابطہ طور پر مکمل کر لی گئی ہے۔ ابتدائی رپورٹ میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ متعلقہ اسکول کی عمارت کا کوئی منظور شدہ نقشہ بلدیاتی اور شہری ترقیاتی اداروں کے سرکاری ریکارڈ میں موجود نہیں تھا۔ بغیر اجازت اور ناقص مٹیریل کے ساتھ قائم کی گئی اس عمارت کے سٹرکچرل آڈٹ کا کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں تھا، جس کے باعث یہ سانحہ پیش آیا۔ واقعے کے فوراً بعد ریسکیو اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے ملبے تلے دبے افراد کو نکالا تھا، تاہم اس سانحے نے صوبے بھر میں نجی تعلیمی اداروں کی عمارات کے معیار پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
تجارتی و معاشی اثرات اس ناخوشگوار واقعے نے نجی تعلیمی شعبے اور جائیداد کی لیزنگ مارکیٹ پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ نجی اسکولوں کے کاروبار میں غیر معیاری اور رہائشی عمارتوں کو تجارتی بنیادوں پر تعلیمی اداروں میں تبدیل کرنے کے رجحان نے اربوں روپے کی غیر منظم معیشت کو جنم دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ریگولیٹری قوانین کی عدم موجودگی اور انسپکشن نظام کی ناکامی سے جہاں شہریوں کے جان و مال کو خطرات لاحق ہیں، وہیں معیاری تعمیراتی کمپنیوں اور مصدقہ کنٹریکٹرز کی خدمات نہ لینے سے معیشت میں غیر قانونی سرگرمیوں کو فروغ ملتا ہے۔ مستقبل میں تعلیمی انفراسٹرکچر کے لیے سخت ضوابط کے نفاذ سے تعلیمی اخراجات اور عمارتوں کے کرایوں میں اضافے کا امکان ہے، جس سے اسکول مالکان کے منافع کے مارجن متاثر ہو سکتے ہیں۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ انسانی جانوں سے کھیلنے والے نجی اسکول کی انتظامیہ اور غفلت برتنے والے بلدیاتی عملے کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ دوسری جانب نجی اسکولز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے یہ مؤقف اپنایا ہے کہ حکومت کی جانب سے عمارتوں کی منظوری اور کمرشلائزیشن کا طریقہ کار انتہائی پیچیدہ اور طویل ہے، جسے فوری طور پر سہل بنانے کی ضرورت ہے۔ طلبہ کے والدین نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے نجی تعلیمی اداروں پر بھاری فیسوں کے عوض ناقص سہولیات فراہم کرنے کا الزام عائد کیا ہے اور اعلیٰ عدلیہ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ اس واقعے کے بعد خیبر پختونخوا حکومت نے تمام نجی تعلیمی عمارتوں کے فوری سٹرکچرل آڈٹ کا عندیہ دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر صوبائی سطح پر سخت قانونی فریم ورک تشکیل نہ دیا گیا تو مستقبل میں ایسے مزید سانحات رونما ہو سکتے ہیں۔ آئندہ چند ہفتوں میں بلدیاتی اداروں کی جانب سے غیر قانونی اور بغیر نقشے کے قائم تعلیمی عمارتوں کو سیل کرنے اور جرمانوں کے نفاذ کی مہم کا آغاز متوقع ہے، جس سے نجی تعلیمی شعبے میں قواعد و ضوابط کی پاسداری کے ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp