سلطنت فارس کے ڈھائی ہزار سالہ جشن پر یحییٰ خان کی سفارتی بے چینی اور تاریخی معاشی اثرات
1971 میں ایران کی تاریخی تقریب پر بھاری قومی وسائل کا استعمال خطے کی جغرافیائی سیاست اور پاکستان کے سفارتی بحران کا نقطہ عروج بن گیا تھا۔

اہم ترین حقائق و پس منظر 14 اکتوبر 1971 کو شاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی نے سلطنتِ فارس کے 2500 سالہ جشن اور اپنی اہلیہ ملکہ فرح پہلوی کی سالگرہ کے موقع پر تخت جمشید (پرسیپولس) کے تاریخی کھنڈرات میں دنیا کی تاریخ کی سب سے مہنگی اور پرتعیش تقریب کا انعقاد کیا۔ اس تقریب میں دنیا بھر کے بادشاہوں، صدور اور وزرائے اعظم نے شرکت کی، جس کی وجہ سے اسے ’صدی کا سب سے بڑا اجتماع‘ قرار دیا گیا۔ تاہم اس چکا چوند کے پس پردہ خطے کی سیاسی صورتحال انتہائی سنگین تھی۔ پاکستان کے صدر جنرل یحییٰ خان اس تقریب میں شریک تھے، جہاں مشرقی پاکستان میں جاری خانہ جنگی کے باعث ان کی موجودگی شدید دباؤ کی عکاس تھی۔ اس دوران سوویت یونین کے صدر نکولائی پودگورنی کے ساتھ ان کے تعلقات میں واضح تناؤ دیکھا گیا، کیونکہ ماسکو اس وقت بھارت کی کھلی حمایت کر رہا تھا اور یحییٰ خان سفارتی محاذ پر تنہائی محسوس کر رہے تھے۔
تجارتی و معاشی اثرات معاشی ماہرین اور مالیاتی مورخین کے مطابق اس پرتعیش جشن پر اس دور میں اندازاً 10 کروڑ سے ایک ارب ڈالر تک کے اخراجات آئے، جو کسی بھی ترقی پذیر ملک کی معیشت کے لیے ناقابل برداشت بوجھ تھا۔ پیرس کے مشہور ریسٹورنٹس سے طیاروں کے ذریعے خوراک درآمد کی گئی جبکہ صحرا میں ایئر کنڈیشنڈ خیموں کا پورا شہر بسایا گیا۔ مقامی تاجر برادری، عام صارفین اور ریٹیل سیکٹر کے لیے یہ تقریب عوامی وسائل کے بے دریغ زیاں کا نمونہ ثابت ہوئی۔ تیل کی آمدنی میں اضافے کے باوجود اس قسم کے شاہانہ اخراجات نے ایران میں افراط زر کی شرح کو تیز کیا اور مقامی منڈیوں میں غریب اور اشرافیہ کے درمیان معاشی خلیج کو خطرناک حد تک وسیع کر دیا۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل ایرانی شاہی دربار نے اس تقریب کو ملکی تاریخ، قومی وقار اور عالمی سطح پر ایران کی تجارتی و سیاسی برتری کے مظاہرے سے تعبیر کیا۔ شاہ ایران کا ماننا تھا کہ اس سے ایران جدید اور ترقی یافتہ دنیا میں نمایاں مقام حاصل کرے گا۔ اس کے برعکس، آیت اللہ خمینی سمیت ایرانی مذہبی قیادت، بائیں بازو کی جماعتوں اور تاجر برادری (بازاریوں) نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایرانی عوام کے وسائل پر ڈاکہ قرار دیا۔ پاکستان کے اندرونی حلقوں میں بھی یحییٰ خان کے دورے پر سوالات اٹھے کہ ملک کے شدید بحران کے عالم میں ایسی پرتعیش تقاریب میں شرکت سفارتی ترجیحات کے منافی تھی۔
مستقبل کا منظرنامہ تاریخی تناظر میں یہ تقریب ایرانی بادشاہت کے زوال کا ایک کلیدی معاشی و نفسیاتی نکتہ ثابت ہوئی۔ اس غیر معمولی شاہانہ اخراج نے عوامی غصے کو ہوا دی جس کا اختتام 1979 کے اسلامی انقلاب کی صورت میں نکلا۔ دوسری جانب، اس تقریب کے محض دو ماہ بعد پاکستان دو لخت ہو گیا، جس سے یہ ظاہر ہوا کہ خطے کی قیادت نے زمینی حقائق، مالیاتی حکمت عملی اور عوامی فلاح کو نظر انداز کر کے نمائش کو ترجیح دی، جس کے دیرپا اثرات جنوبی و مغربی ایشیا کی سیاست و معیشت پر تاحال ثبت ہیں۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp