Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

پاکستان ریلویز میں 2022 سے اب تک 349 ٹرین حادثات کا انکشاف، معاشی و لاجسٹکس نقصانات پر پارلیمانی تشویش

قومی اسمبلی میں پیش کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2022 سے اب تک مسافر اور مال بردار ٹرینوں کے 349 حادثات رونما ہو چکے ہیں، جس پر قانون سازوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان ریلویز میں 2022 سے اب تک 349 ٹرین حادثات کا انکشاف، معاشی و لاجسٹکس نقصانات پر پارلیمانی تشویش

اہم ترین حقائق و پس منظر

پاکستان ریلویز کے حفاظتی انتظامات اور آپریشنل صلاحیتوں پر ایک بار پھر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور پارلیمانی رکن حنیف عباسی کی جانب سے پیش کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2022 سے اب تک مسافر اور مال بردار ٹرینوں کے مجموعی طور پر 349 حادثات پیش آ چکے ہیں۔ ان حادثات میں پٹری سے اترنے کے واقعات، لیول کراسنگ پر تصادم اور آگ لگنے جیسے ہولناک سانحات شامل ہیں جن کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ اربوں روپے کے قومی اثاثوں کو نقصان پہنچا۔ پارلیمانی مباحثے کے دوران یہ حقیقت واضح ہوئی کہ ٹریکس کی ناقص دیکھ بھال، خودکار سگنلنگ نظام کی عدم موجودگی اور وسائل کی کمی نے ریلویز کے حفاظتی معیار کو پسماندہ ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات

تجارتی اور کاروباری نقطہ نظر سے ریلوے حادثات کے تسلسل نے ملک کے لاجسٹکس نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں مال بردار ریل گاڑیاں خام مال، درآمدی ایندھن، صنعتی اجناس اور زرعی پیداوار کی اندرون ملک ترسیل کا سب سے سستا ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔ بار بار کے حادثات اور ٹریکس کی بندش کے باعث سپلائی چین میں غیر معمولی تاخیر پیدا ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں برآمد کنندگان اور تاجروں کے اخراجات میں بھاری اضافہ ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ لاجسٹکس بحران کی وجہ سے تاجر برادری سڑک کے مہنگے راستوں کے استعمال پر مجبور ہو جاتی ہے، جس سے صنعتی اشیاء کی پیداواری لاگت بڑھتی ہے اور افراط زر میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ریلویز کے محکمے کو خود بوگیوں کی تباہی اور ٹریکس کی بحالی کی مد میں بھاری مالی خسارہ برداشت کرنا پڑتا ہے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل

قومی اسمبلی میں پیش رفت کے بعد حزب اختلاف اور حکومتی ارکان کی جانب سے وزارت ریلوے کی کارکردگی پر کڑی تنقید کی گئی ہے۔ پارلیمنٹیرینز کا مؤقف ہے کہ حادثات کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کے بجائے رسمی انکوائریاں کی جاتی ہیں جن کے نتائج کبھی سامنے نہیں آتے۔ دوسری جانب ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ محکمے کو شدید مالی بحران، فنڈز کی عدم دستیابی اور پرانے ٹریکس کے چیلنجز درپیش ہیں جن کی مکمل بحالی کے لیے خطیر سرمائے کی ضرورت ہے۔ تاجر برادری اور چیمبرز آف کامرس نے بھی اپنے ردعمل میں ریلویز کی مال بردار سروسز کے عدم استحکام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے اندرونی تجارت کے لیے سنگین رکاوٹ قرار دیا ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ

مستقبل کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک مین لائن ون یعنی ایم ایل ون منصوبے پر عملی کام شروع نہیں ہوتا اور ریلوے انفراسٹرکچر کی جامع ڈیجیٹلائزیشن نہیں کی جاتی، تب تک حادثات کی شرح میں کمی لانا ناممکن ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ نجی شعبے کے تعاون سے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت مال بردار سروسز کو جدید خطوط پر استوار کرے۔ اس کے علاوہ ریلوے ٹریکس اور سگنلنگ نظام کی جدید ٹیکنالوجی سے لیس مانیٹرنگ اور حفاظتی پروٹوکولز پر سختی سے عمل درآمد ہی قومی ادارے کو معاشی دیوالیہ پن اور عوامی عدم اعتماد سے نکالنے کا واحد محفوظ راستہ ہے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
پاکستان ریلویز میں 2022 سے اب تک 349 ٹرین حادثات کا انکشاف، معاشی و لاجسٹکس نقصانات پر پارلیمانی تشویش