موسم سرما میں توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے 18 ایل این جی کارگوز کی خریداری کا منصوبہ تیار
حکومت نے موسم سرما میں ملک میں گیس کی قلت دور کرنے کے لیے ایل این جی کے 18 کارگوز کی خریداری کا ہدف مقرر کیا ہے تاکہ گھریلو اور تجارتی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر پاکستان میں موسم سرما کے دوران گیس کی طلب میں غیر معمولی اضافہ اور مقامی پیداوار میں مسلسل کمی کے پیش نظر وزارت توانائی نے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے 18 کارگوز درآمد کرنے کا باضابطہ ہدف مقرر کر لیا ہے۔ ملک کے قدرتی گیس کے ذخائر سالانہ بنیادوں پر کم ہو رہے ہیں جس کے سبب سردیوں کے مہینوں میں گھریلو اور صنعتی صارفین کو شدید قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) اور سوئی گیس کمپنیوں نے اس صورتحال کے تدارک کے لیے باہمی مشاورت کے بعد درآمدی حکمت عملی کو حتمی شکل دی ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد دسمبر اور جنوری کے انتہائی سرد ایام میں گیس کے شدید بحران اور پریشر میں کمی کے مسائل سے بچاؤ ممکن بنانا ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات معاشی نقطہ نظر سے ایل این جی کی اتنی بڑی مقدار میں خریداری قومی معیشت پر دوطرفہ اثرات مرتب کرے گی۔ ایک طرف جہاں صنعتوں، خصوصاً ٹیکسٹائل اور برآمدی شعبے کو ایندھن کی مسلسل فراہمی جاری رہنے سے ملکی پیداوار کا تسلسل برقرار رہے گا، وہیں دوسری طرف عالمی منڈی میں ایل این جی کی غیر مستحکم قیمتیں ملکی درآمدی بل پر اضافی بوجھ ڈالیں گی۔ مقامی مارکیٹ میں مائع قدرتی گیس کے نرخ مہنگے ہونے کی وجہ سے گھریلو صارفین کے یوٹیلیٹی بلوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ بجلی کی پیداواری لاگت میں بھی اضافے کا خدشہ موجود ہے۔ تاجر برادری کا کہنا ہے کہ گیس کی بلاتعطل ترسیل تجارتی سرگرمیوں کو رواں رکھنے کے لیے لازمی ہے، تاہم مہنگا ایندھن حتمی پیداواری اخراجات بڑھا سکتا ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل وزارت توانائی کے اعلیٰ حکام کے مطابق گھریلو صارفین کو کھانا پکانے کے اوقات میں ترجیحی بنیادوں پر گیس فراہم کرنے کے لیے ایل این جی کارگوز کی خریداری ناگزیر تھی۔ حکومتی ذرائع نے واضح کیا کہ طویل المدتی اور اسپاٹ پرچیز دونوں آپشنز کو پیش نظر رکھا جا رہا ہے تاکہ کم سے کم لاگت میں مطلوبہ سپلائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے برعکس، صنعتی تنظیموں اور چیمبرز آف کامرس نے حکومت پر زور دیا ہے کہ درآمدی گیس کی لاگت کا بوجھ براہ راست پیداواری شعبے پر نہ ڈالا جائے اور سردیوں کے آغاز سے قبل تمام ترسیلی نظام میں گیس لیکج اور لائن لاسز پر قابو پایا جائے۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ پیش رفت کے تحت بین الاقوامی منڈیوں سے ان کارگوز کے ٹینڈرز جلد جاری کیے جانے کا امکان ہے تاکہ رسد کی بروقت ترسیل ممکن ہو سکے۔ ماہرین توانائی کے مطابق صرف درآمدی ایندھن پر انحصار طویل المدتی حل نہیں ہے، بلکہ حکومت کو مقامی سطح پر تیل و گیس کی تلاش، متبادل توانائی کے ذرائع اور ترسیلی نظام کی ازسرنو بہتری پر فوری توجہ دینی ہوگی۔ اگر درآمدی گیس کا انتظام مؤثر انداز میں منظم نہ کیا گیا تو ملک کو ایک بار پھر ادائیگیوں کے توازن اور گردشی قرضوں کے سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp