Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

پاکستان مقروض ترقی پذیر ممالک کے عالمی باروؤرز پلیٹ فارم کا سربراہ منتخب، اہم ذمہ داری تفویض

پاکستان کو مقروض ترقی پذیر ممالک کے عالمی فورم 'باروؤرز پلیٹ فارم' کی چیئرمین شپ مل گئی ہے، جس سے عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے قرضوں کے انتظام کے لیے ملک کا کردار نمایاں ہوگا۔

پاکستان مقروض ترقی پذیر ممالک کے عالمی باروؤرز پلیٹ فارم کا سربراہ منتخب، اہم ذمہ داری تفویض

اہم ترین حقائق و پس منظر عالمی مالیاتی منظرنامے پر پاکستان نے ایک اہم سفارتی و معاشی کامیابی حاصل کی ہے، جس کے تحت ملک کو قرض لینے والے ترقی پذیر ممالک کے عالمی فورم 'باروؤرز پلیٹ فارم' کی گورننگ کونسل کی چیئرمین شپ سونپ دی گئی ہے۔ باروؤرز پلیٹ فارم کا قیام دراصل مقروض اور ترقی پذیر معیشتوں کے درمیان تجربات کے تبادلے، قرضوں کے شفاف اور مؤثر انتظام، اور عالمی مالیاتی مباحث میں کمزور معیشتوں کی توانا آواز بننے کے لیے عمل میں لایا گیا ہے۔ یہ فورم عالمی بینک، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور دیگر کثیرالجہتی قرض دہندگان کے ساتھ روابط کو متوازن بنانے کے لیے ایک کلیدی پلیٹ فارم شمار ہوتا ہے۔ پاکستان کی تقرری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک خود بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور قرضوں کی تنظیم نو کے عمل سے گزر رہا ہے، جس کی بدولت اس پلیٹ فارم کی سربراہی خصوصی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کا اس عالمی فورم کا سربراہ بننا ملکی معیشت، مالیاتی نظم و نسق اور تجارتی فضا پر دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ اس منصب کی بدولت پاکستان کو نہ صرف قرضوں کی مؤثر حکمت عملی اور رسک مینجمنٹ سے متعلق بین الاقوامی تکنیکی معاونت تک براہ راست رسائی حاصل ہوگی بلکہ وہ ترقی پذیر ممالک کو درپیش ساختی مسائل کا حل تلاش کرنے میں قائدانہ کردار بھی ادا کرے گا۔ مقامی تجارتی منڈیوں، صنعتی شعبے اور سرمایہ کاروں کے لیے یہ پیش رفت مالیاتی استحکام کے اشاریے کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ اگر پاکستان اس فورم کے ذریعے قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے اور ریلیف کے طریقہ کار کو بہتر انداز میں اجاگر کرنے میں کامیاب ہوتا ہے، تو اس سے بالواسطہ طور پر زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم ہوگا، شرح سود کے توازن میں مدد ملے گی اور مقامی سطح پر مہنگائی و کاروباری لاگت کے دباؤ کو کم کرنے کے مواقع پیدا ہوں گے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل وزارت خزانہ اور حکومتی معاشی ٹیم نے اس تقرری کو عالمی سطح پر پاکستان کی مالیاتی پالیسیوں اور معاشی سفارت کاری پر اعتماد کا مظہر قرار دیا ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ پاکستان مقروض ممالک کے چیلنجز سے بخوبی آگاہ ہے اور وہ اس فورم کو موسمیاتی تبدیلیوں، معاشی جھٹکوں اور بلند شرح سود کی زد میں آئے ممالک کے حق میں مؤثر آواز بنانے کے لیے استعمال کرے گا۔ دوسری جانب معاشی تجزیہ کاروں اور تجارتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس علامتی و سفارتی پیش رفت کو عملی نتائج میں بدلنا سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کو اپنے تجربات کی روشنی میں عالمی مالیاتی نظام کی غیر منصفانہ شرائط پر سنجیدہ مکالمہ شروع کروانا چاہیے تاکہ ترقی پذیر دنیا کو قرضوں کے چکر سے نکلنے کا پائیدار راستہ مل سکے۔

مستقبل کا منظرنامہ مستقبل کے تناظر میں پاکستان کی سربراہی میں اس فورم کا اولین ہدف کثیرالجہتی مالیاتی اداروں کے ساتھ بات چیت کے قواعد و ضوابط کو ترقی پذیر ممالک کے لیے موزوں بنانا ہوگا۔ آنے والے مہینوں میں گورننگ کونسل کے تحت مشترکہ فریم ورک تیار کیے جانے کی توقع ہے جن میں قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ، ماحولیاتی مالیات اور کم لاگت پر فنانسنگ جیسے امور کو ترجیح دی جائے گی۔ اگر پاکستان اس فورم کے ذریعے ایک جامع حکمت عملی وضع کرنے میں کامیاب رہا تو اس سے نہ صرف دیگر مقروض ممالک کے معاشی مفادات کا تحفظ ممکن ہوگا بلکہ پاکستان کی اپنی بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ اور بیرونی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
پاکستان مقروض ترقی پذیر ممالک کے عالمی باروؤرز پلیٹ فارم کا سربراہ منتخب، اہم ذمہ داری تفویض