نئے این ایف سی ایوارڈ کے اجراء کا معاملہ پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج، عدالت کا فریقین سے جواب طلب
پشاور ہائیکورٹ میں نئے این ایف سی ایوارڈ کے اجراء سے متعلق دائر درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے متعلقہ فریقین سے جواب طلب کر لیا ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر نئے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے اجراء کا معاملہ بالآخر عدالت میں پہنچ گیا ہے جہاں پشاور ہائیکورٹ نے اس اہم آئینی و انتظامی معاملے پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 160 کے تحت ہر پانچ سال بعد نئے این ایف سی ایوارڈ کا تشکیل پانا لازمی ہے تاکہ وفاق اور اکائیوں کے درمیان محصولات اور مالیاتی وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم، طویل عرصے سے ساتویں این ایف سی ایوارڈ پر ہی انحصار جاری ہے اور نئے ایوارڈ کی تشکیل میں مسلسل تاخیر کی جا رہی ہے۔ دائر کی گئی رٹ پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئینی تقاضوں کو نظر انداز کرنے سے بالخصوص چھوٹے صوبوں کے مالیاتی حقوق متاثر ہو رہے ہیں اور ترقیاتی فنڈز کی فراہمی میں تعطل پیدا ہو رہا ہے۔ عدالت عالیہ کی جانب سے اس نوٹس کے اجراء کے بعد سیاسی و قانونی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور اسے ایک اہم آئینی موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات این ایف سی ایوارڈ کا تعطل براہ راست ملک کی معیشت، تجارتی سرگرمیوں اور عام آدمی کے معیار زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ جب تک صوبوں کو ان کے وسائل کا منصفانہ حصہ نہیں ملتا، وہ صحت، تعلیم، اور بنیادی ڈھانچے جیسے شعبوں میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ کاروباری برادری اور بالخصوص پبلک سیکٹر کے ٹھیکیداروں اور ریٹیلرز کے نزدیک، صوبائی سطح پر ترقیاتی بجٹ کا محدود ہونا مارکیٹ میں لیکویڈیٹی یا نقدی کے بہاؤ کو کم کر دیتا ہے، جس سے مارکیٹ سست روی کا شکار ہوتی ہے۔ ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ نئے ایوارڈ کے بغیر وفاق اور صوبوں کے درمیان مالیاتی ذمہ داریوں کا توازن بگڑ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل عدالت میں دائر درخواست کے بعد سیاسی اور معاشی حلقوں کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ آئینی مدت گزر جانے کے باوجود نئے این ایف سی ایوارڈ کی تشکیل میں ناکامی آئین کی روح کے منافی ہے۔ دوسری جانب، حکومتیحلقوں کا روایتی طور پر یہ مؤقف رہا ہے کہ معاشی چیلنجز، محصولات کے تخمینے اور وفاق کے محدود مالیاتی گنجائش کی وجہ سے تمام صوبوں کے مطالعہ اور اتفاق رائے کے ساتھ نیا ایوارڈ بنانے میں وقت لگ رہا ہے۔ تاہم، پشاور ہائیکورٹ کے اس اقدام نے حکومت کو اس بات پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ عدالت کے روبرو اپنی آئینی پوزیشن واضح کرے اور تاخیر کی وجوہات پیش کرے۔
مستقبل کا منظرنامہ پشاور ہائیکورٹ میں اس مقدمے کی سماعت جیسے جیسے آگے بڑھے گی، یہ معاملہ ملک کی معاشی اور سیاسی سمت کے تعین میں انتہائی اہم کردار ادا کرے گا۔ اگر عدالت حکومت کو جلد نیا این ایف سی ایوارڈ تشکیل دینے کا حکم دیتی ہے تو اس سے وفاقی اور صوبائی مالیاتی ڈھانچے میں انقلابی تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔ اس سے نہ صرف صوبوں کی مالیاتی خودمختاری مستحکم ہوگی بلکہ گراس روٹ کی سطح پر ترقیاتی کاموں میں بھی تیزی آئے گی، جو بالآخر طویل المدتی معاشی استحکام کا باعث بنے گا۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp