قومی سلامتی کے تحفظ میں مسلح افواج کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں: نواز شریف
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے ملک کی سلامتی کے دفاع میں پاک فوج کے جوانوں کی شجاعت اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے امن کو ترقی کی بنیادی شرط قرار دیا ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے ملکی دفاع اور امن و امان کی بحالی کے لیے مسلح افواج کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے فوجی انتہائی دلیری اور بہادری کے ساتھ وطن کا دفاع کر رہے ہیں۔ انہوں نے حالیہ سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور سرحدوں کی نگرانی میں سکیورٹی فورسز کے افسران اور جوانوں نے لازوال قربانیاں دی ہیں۔ ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی چیلنجز کے مقابلے میں قومی یکجہتی اور ریاستی اداروں کی مضبوطی ناگزیر ہے۔ تاریخی طور پر پاکستان کی دفاعی تاریخ شجاعت اور استقامت سے عبارت ہے، اور موجودہ حالات میں بھی فورسز کا غیر متزلزل عزم پوری قوم کے لیے باعث فخر ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات کسی بھی ملک میں معاشی خوشحالی، سرمایہ کاری اور صنعتی سرگرمیوں کا براہ راست تعلق امن و امان اور جغرافیائی استحکام سے ہوتا ہے۔ سکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردی اور تخریب کاری کے خاتمے کی مسلسل کوششیں تجارتی شعبے کو تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ جب سرحدیں اور تجارتی شاہراہیں محفوظ ہوتی ہیں تو کسانوں، ہول سیلرز اور ریٹیلرز کے لیے سپلائی چین کی بحالی ممکن ہو پاتی ہے، جس سے مارکیٹ میں اشیائے خورونوش اور خام مال کی ترسیل بلاتعطل جاری رہتی ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ سکیورٹی صورتحال کے استحکام سے ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور کرنسی کے استحکام کے راستے ہموار ہوتے ہیں۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل حکومتی حلقوں اور سیاسی قیادت نے قائد مسلم لیگ (ن) کے بیان کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی سلامتی کے معاملے پر پوری قوم اور سیاسی قوتیں یک زبان ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاستی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہونا ملک دشمن عناصر کے عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ دوسری جانب تاجر برادری اور کاروباری تنظیموں نے بھی امن و استحکام کے لیے فورسز کے اقدامات کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مستحکم امن ہی ملک کو تجارتی بحرانوں سے نکالنے اور مقامی صنعتوں کو فروغ دینے کا واحد راستہ ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ مستقبل کے تناظر میں ملک کو درپیش اقتصادی اور تزویراتی چیلنجز کے حل کے لیے سکیورٹی اداروں اور حکومت کا باہمی تعاون غیر معمولی اہمیت کا حامل رہے گا۔ ماہرین کے مطابق آئندہ مہینوں میں بارڈر سکیورٹی کو مزید جدید خطوط پر استوار کرنے اور اقتصادی راہداریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات متوقع ہیں۔ اگر امن و امان کے تسلسل کو برقرار رکھا گیا تو نہ صرف معاشی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا بلکہ پاکستان علاقائی تجارت کا ایک محفوظ اور فعال مرکز بن کر ابھر سکے گا۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp