مچھر مار کوائل کا زہریلا دھواں: صحت عامہ کے لیے خاموش خطرہ اور معاشی چیلنجز
مچھروں سے بچاؤ کے لیے جلائے جانے والے کوائل کا دھواں صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے، جو سگریٹ کے دھوئیں سے بھی زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر
پاکستان بھر میں بالخصوص گرمیوں اور مون سون کے موسم میں مچھروں کی بہتات سے نمٹنے کے لیے روایتی مچھر مار کوائل کا استعمال گھروں میں عام ہے۔ ایک عام فہم یہ پایا جاتا ہے کہ سونے سے قبل کوائل جلانے سے نہ صرف مچھروں سے نجات ملتی ہے بلکہ مختلف موذی بیماریاں بھی دور رہتی ہیں۔ تاہم، طبی تحقیقات اور ماہرینِ صحت کے انکشافات نے اس تاثر کو یکسر بدل دیا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق ایک مچھر مار کوائل کے جلنے سے خارج ہونے والا دھواں درجنوں سگریٹ کے دھوئیں کے برابر زہریلے اجزاء پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس دھوئیں میں ایسے کیمیائی مادے پائے جاتے ہیں جو انسانی پھیپھڑوں میں گہرائی تک اتر جاتے ہیں اور سانس کی نالیوں کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ بچوں، بزرگوں اور پہلے سے سانس کے امراض میں مبتلا افراد کے لیے یہ دھواں کسی زہر سے کم نہیں ہے، جو دمے کے شدید اٹیک اور دائمی نزلہ زکام کا سبب بن سکتا ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات
ملکی مارکیٹ میں مچھر مار کوائل کی صنعت کروڑوں روپے کی منڈی پر محیط ہے، جہاں کم قیمت ہونے کی وجہ سے غریب اور متوسط طبقہ بڑے پیمانے پر ان کی خریداری کرتا ہے۔ ریٹیلرز کے مطابق، ان کوائلز کی مانگ میں سالانہ بنیادوں پر نمایاں اضافہ دیکھا جاتا ہے۔ لیکن اس تجارت کا دوسرا رخ صحت عامہ کے اخراجات کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ سستے کوائلز کے استعمال سے پیدا ہونے والی سانس کی پیچیدگیاں غریب خاندانوں کے لیے ادویات اور ہسپتال کے اخراجات میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ کوائلز گھریلو سطح پر سستے داموں دستیاب ہیں، لیکن طویل مدت میں یہ قوم کے صحت کے بجٹ اور پیداواری صلاحیت پر انتہائی منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ دوسری جانب، برقی ریپیلنٹس اور مچھر مار لوشن جیسے متبادل ذرائع مہنگے ہونے کی وجہ سے عام صارف کی پہنچ سے باہر ہیں۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل
صحت کے عالمی اداروں اور مقامی طبی ماہرین نے حکومت اور متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ مچھر مار کوائلز میں استعمال ہونے والے کیمیائی اجزاء کے معیار کو سختی سے مانیٹر کریں۔ طبی تنظیموں کا کہنا ہے کہ صارفین کو پیکنگ پر ان کے مضر صحت اثرات سے متعلق واضح انتباہات درج کرنے کی قانونی ضرورت ہے۔ تاجر برادری کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ وہ مارکیٹ کی طلب کے مطابق مصنوعات فروخت کرتے ہیں، اور اگر حکومت متبادل اور محفوظ مصنوعات کی تیاری پر ٹیکس چھوٹ یا سبسڈی دے تو تاجر بھی صحت دوست اشیاء کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ عوام کی بڑی تعداد اس خطرے سے ناواقف ہے کیونکہ کارپوریٹ سطح پر اس کے نقصانات کو اجاگر کرنے کے لیے خاطر خواہ آگہی مہمات نہیں چلائی گئیں۔
مستقبل کا منظرنامہ
آئندہ چند برسوں میں اگر ماحولیاتی اور صحت کے اداروں نے اس مسئلے پر توجہ نہ دی تو سانس کی بیماریوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ مستقبل کی پالیسیوں میں یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ زہریلے کوائلز کی درآمد اور مقامی تیاری پر سخت ضابطہ اخلاق نافذ کیا جائے۔ حکومت، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو مل کر ایک مؤثر عوامی مہم چلانی چاہیے تاکہ عوام روایتی کوائلز کے بجائے مچھروں سے بچاؤ کے محفوظ اور جدید طریقوں کی طرف راغب ہوں۔ معاشی طور پر بھی یہ ضروری ہے کہ ماحول دوست اور محفوظ متبادل اشیاء کو سস্তے داموں مارکیٹ میں متعارف کرایا جائے تاکہ غریب طبقے کی جان و مال دونوں کا تحفظ ممکن ہو سکے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.