ریاست خیرپور کے آخری حکمران میر جارج علی مراد خان انتقال کر گئے
ریاست خیرپور کے آخری حکمران میر جارج علی مراد خان سکھر میں انتقال کر گئے۔ ان کی وفات سے برطانوی ہند کی نوابی ریاستوں کے ایک اہم باب کا اختتام ہو گیا ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر برطانوی ہندوستان کی سابق نوابی ریاست خیرپور کے آخری زندہ حکمران میر جارج علی مراد خان دوم تالپور طویل علالت کے بعد پانچ اکتوبر 2026 کو سندھ کے شہر سکھر میں وفات پا گئے۔ مرحوم کی زندگی اور سیاسی سفر برصغیر پاک و ہند کی تاریخ کا ایک اہم ترین باب ہے۔ وہ ان نادر روزگار شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے تقسیم ہند سے پہلے اور بعد کے ادوار کی سیاسی و سماجی تبدیلیوں کو نہ صرف قریب سے دیکھا بلکہ ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے ان میں کلیدی کردار بھی ادا کیا۔ ان کی زندگی کے ابتدائی حالات اور تخت نشینی کے مراحل بھی کسی سنسنی خیز داستان سے کم نہ تھے، جہاں خاندانی رسہ کشی اور سیاسی مصلحتوں کے درمیان انہوں نے اپنی ریاست کی بقا اور استحکام کے لیے جدوجہد کی۔
تجارتی و معاشی اثرات خیرپور ریاست اپنے دور میں زرعی پیداوار، خصوصاً کھجور کے باغات، روئی اور دستکاری کی صنعت کے حوالے سے خطے میں ایک نمایاں معاشی مرکز کی حیثیت رکھتی تھی۔ میر جارج علی مراد خان کے دورِ حکومت اور اس کے بعد کے معاشی ارتقاء نے مقامی منڈیوں، ریٹیلرز اور زمیندار طبقے پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ ان کے انتقال پر کاروباری و تاجر برادری نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے کیونکہ ان کا خاندان روایتی طور پر خطے میں معاشی سرگرمیوں، روزگار کے مواقع کی فراہمی اور زرعی تجارت کے فروغ میں معاون رہا ہے۔ ماہرینِ معاشیات کے مطابق، ان کے جانے سے ایک تاریخی معاشی ربط کا وہ سلسلہ بھی کمزور ہو گیا جو سابقہ ریاست کی روایات سے جڑا ہوا تھا۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل میر جارج علی مراد خان کے انتقال پر ملکی سطح پر سیاسی رہنماؤں، مؤرخین اور تاجر تنظیموں کی جانب سے تعزیت کا سلسلہ جاری ہے۔ کالیار ٹریڈرز اور سندھ کی دیگر کاروباری تنظیموں کے نمائندوں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ مرحوم نے ہمیشہ خطے کی روایات اور تجارتی اقدار کے تحفظ کے لیے مثبت کردار ادا کیا۔ فریقین کا کہنا ہے کہ ان کی رحلت سے تاریخ کا ایک درخشاں باب بند ہو گیا ہے اور ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ مقامی معززین اور سول سوسائٹی کے ارکان نے بھی ان کی فلاحی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ میر جارج علی مراد خان کی وفات کے بعد اب ان کے ورثاء اور مقامی انتظامیہ کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ان کے تاریخی ورثے، یادگاروں اور خیرپور کی ثقافتی و معاشی میراث کو محفوظ بنانا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس تاریخی نقصان کے بعد خطے میں سیاحت کے فروغ اور تاریخی ورثے کی بحالی کے لیے نئے منصوبے شروع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسلیں سابق ریاست خیرپور کے شاندار معاشی اور ثقافتی ماضی سے روشناس ہو سکیں۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp