اکتوبر کے لیے گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں دو سو چوالیس روپے چودہ پیسے کا اضافہ
اکتوبر کے مہینے کے لیے گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں دو سو چوالیس روپے چودہ پیسے کا اضافہ کر دیا گیا ہے، جس سے عام صارفین کی مالی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔

اہم ترین حقائق و پس منظر ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کا تازہ ترین فیصلہ حکومت اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے بعد سامنے آیا ہے۔ اکتوبر کے مہینے کے لیے گھریلو استعمال کے 11.8 کلوگرام والے سلنڈر کی قیمت میں 244 روپے 14 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد ملک بھر میں بالخصوص ان علاقوں میں جہاں سوئی گیس کی سہولت دستیاب نہیں ہے، گھریلو صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ اقدام عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور روپے کے مقابلے میں ملکی کرنسی کی قدر میں تبدیلی کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔ پس منظر میں دیکھا جائے تو گزشتہ چند ماہ سے مسلسل توانائی کے شعبے میں قیمتیں بڑھ رہی ہیں، جس نے عام آدمی کی زندگی کو براہ راست متاثر کیا ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات معاشی نکتہ نظر سے ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں یہ اضافہ صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ گھریلو بجٹ پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ ہوٹلوں، چھوٹے کارخانوں اور تجارتی مراکز میں جہاں ایل پی جی کا استعمال ناگزیر ہے، پیداواری لاگت میں اضافہ ہوگا۔ ریٹیلرز اور ڈسٹری بیوٹرز کا کہنا ہے کہ قیمتیں بڑھنے سے ان کی خرید و فروخت کا حجم کم ہو رہا ہے کیونکہ عام صارف کی خریداری کی سکت روز بروز کم ہوتی جا رہی ہے۔ مہنگائی کی اس لہر نے متوسط اور نچلے طبقے کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول مزید مشکل بنا دیا ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل ححومتی حلقوں اور اوگرا کا مؤقف ہے کہ قیمتوں کا تعین بین الاقوامی مارکیٹ کے تناسب سے کیا جاتا ہے اور یہ ایڈجسٹمنٹ ملکی معیشت کی ضروریات کے عین مطابق ہے۔ دوسری جانب، تاجر برادری، صارفین کے حقوق کے علمبرداروں اور مختلف سیاسی جماعتوں نے اس اضافے کو مسترد کرتے ہوئے اسے عوام پر ظلم قرار دیا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی سے بلند شرحِ تضاد اور بجلی و گیس کے بھاری بھرکم بلوں کے باعث عوام نڈھال ہیں، ایسے میں ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ ناقابل برداشت ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران اگر عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں کمی واقع نہ ہوئی تو گھریلو اور تجارتی صارفین کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ماہرینِ معیشت کا مشورہ ہے کہ حکومت کو فوری طور پر متبادل توانائی کے ذرائع بالخصوص قابلِ تجدید توانائی پر توجہ دینی چاہیے تاکہ عوام کو اس دائمی بحران سے نجات دلائی جا सके۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp