Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

ضلع کرم میں چودہ سالہ لڑکی کی پراسرار گمشدگی کا معاملہ، تین ہفتے بعد بھی پولیس سراغ لگانے میں ناکام

ضلع کرم میں چودہ سالہ لڑکی کی تین ہفتوں سے پراسرار گمشدگی پر مقامی آبادی میں شدید اضطراب پھیل گیا ہے جبکہ پولیس تاحال کسی حتمی پیش رفت میں ناکام رہی ہے۔

ضلع کرم میں چودہ سالہ لڑکی کی پراسرار گمشدگی کا معاملہ، تین ہفتے بعد بھی پولیس سراغ لگانے میں ناکام

اہم ترین حقائق و پس منظر خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع کرم میں چودہ سالہ لڑکی کی پراسرار گمشدگی کو تین ہفتے گزر جانے کے باوجود قانون نافذ کرنے والے ادارے بازیابی یا ملزمان کی نشاندہی میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ تین ہفتے قبل پیش آیا تھا جب مذکورہ لڑکی اچانک لاپتہ ہو گئی، جس پر اہل خانہ نے فوری طور پر مقامی پولیس اسٹیشن میں رپورٹ درج کرائی۔ ابتدائی تفتیش اور مختلف مقامات پر سرچ آپریشنز کے باوجود پولیس کی جانب سے کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آسکی ہے۔ واقعہ کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور بچی کے اہل خانہ مسلسل پریشانی اور ذہنی اذیت سے دوچار ہیں۔

تجارتی و معاشی اثرات ضلع کرم میں پیش آنے والے اس ناخوشگوار واقعے نے نہ صرف سماجی بلکہ مقامی کاروباری اور تجارتی سرگرمیوں کو بھی منفی طور پر متاثر کیا ہے۔ قبائلی اضلاع پہلے ہی طویل بدامنی اور سرحدی کشیدگی کے باعث معاشی زبوں حالی کا شکار رہے ہیں۔ شہریوں میں عدم تحفظ کی فضا قائم ہونے سے مقامی بازاروں میں خریداروں کی آمد و رفت میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ شام کے اوقات میں بازار قبل از وقت بند ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے ریٹیلرز اور چھوٹے دکانداروں کے روزانہ کے منافع پر برا اثر پڑ رہا ہے۔ امن و امان کی غیر یقینی صورتحال بیرونی سرمایہ کاری اور علاقائی تجارتی اعتماد کو مجروح کر رہی ہے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل متاثرہ خاندان کا مؤقف ہے کہ پولیس اور انتظامیہ معاملے کی حساسیت کو نظرانداز کر رہی ہے اور روایتی تساہل پسندی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام بشمول انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا اور وزیر اعلیٰ سے فوری نوٹس لینے اور خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب مقامی پولیس انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ تمام تر دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور لڑکی کی بازیابی کے لیے متعدد مشتبہ افراد سے تفتیش جاری ہے۔ سول سوسائٹی اور تاجر تنظیموں نے انتظامیہ کو متنبہ کیا ہے کہ اگر فوری نتائج نہ نکلے تو وہ احتجاج کا دائرہ وسیع کریں گے۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ دنوں میں اگر انتظامیہ لاپتہ لڑکی کی بحفاظت بازیابی عمل میں لانے میں کامیاب نہ ہوئی تو قبائلی ضلع کرم میں عوامی بے چینی سنگین احتجاجی تحریک کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ تجارتی انجمنوں کی جانب سے شٹر ڈاؤن ہڑتال کا امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا جس سے خطے کی معیشت مزید دباؤ کا شکار ہوگی۔ پائیدار امن اور شہریوں کے اعتماد کی بحالی کے لیے ناگزیر ہے کہ پولیس شفاف اور جدید خطوط پر تفتیش مکمل کرے تاکہ علاقے میں ریاستی عملداری کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
ضلع کرم میں چودہ سالہ لڑکی کی پراسرار گمشدگی کا معاملہ، تین ہفتے بعد بھی پولیس سراغ لگانے میں ناکام