خیبرپختونخوا میں معدنیات کے لائسنسوں کے اجرا پر وفاق اور صوبائی حکومت میں نیا تنازع
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں معدنی وسائل کے زیادہ تر لائسنس تحریک انصاف کی سابقہ حکومتوں نے جاری کیے، جس سے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک اہم بیان میں انکشاف کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں قدرتی وسائل اور معدنیات نکالنے کے زیادہ تر پرمٹ اور لائسنس پاکستان تحریک انصاف کے گزشتہ ادوارِ حکومت میں جاری کیے گئے۔ وفاقی وزیر نے اس امر کی جانب اشارہ کیا کہ صوبے کے وسیع قدرتی وسائل کی الاٹمنٹ کے دوران شفافیت کے تقاضوں کو نظرانداز کیا گیا، جس کی وجہ سے قومی خزانے کو خاطر خواہ فائدہ پہنچانے کے بجائے مخصوص مفادات کو تحفظ دیا گیا۔ خیبرپختونخوا، جو قیمتی پتھروں، سنگِ مرمر، تانبے اور دیگر نایاب معدنیات کے حوالے سے قدرتی طور پر مالامال خطہ شمار ہوتا ہے، طویل عرصے سے وسائل کے انتظام اور شفاف ریگولیشن کے فقدان کا شکار رہا ہے۔ اس بیان نے وفاقی اور صوبائی سطح پر معدنی وسائل کے انتظام اور سابقہ پالیسیوں کی قانونی حیثیت پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات معاشی ماہرین کے مطابق معدنیات کے شعبے میں غیر شفاف لائسنسنگ پالیسیوں نے پاکستان کی کان کنی کی صنعت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ جب قدرتی وسائل کو قواعد و ضوابط کے برعکس بانٹا جاتا ہے تو بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں جدید ٹیکنالوجی اور بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا راستہ رک جاتا ہے۔ خیبرپختونخوا میں خام معدنیات کی غیر منظم نکاسی اور اسمگلنگ کی وجہ سے مقامی ریٹیلرز اور قانونی پروسیسنگ یونٹس کو خام مال مہنگے داموں ملتا ہے، جس سے مقامی مارکیٹ میں پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے۔ اگر اس شعبے کو مؤثر پالیسی کے تحت منظم کیا جائے تو یہ صنعت سالانہ اربوں روپے کا ریونیو پیدا کر سکتی ہے اور ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ سابقہ ادوار میں وسائل کی منصفانہ تقسیم کے بجائے اقربا پروری کی بنیاد پر فیصلے کیے گئے جس کی مکمل چھان بین ضروری ہے۔ حکومتی ترجمانوں کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت کو پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے قدرتی خزانوں کی شفاف نیلامی ناگزیر ہے۔ دوسری جانب تحریک انصاف کی صوبائی قیادت نے وفاقی وزیر کے الزامات کو سیاسی الزام تراشی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ صوبائی حکام کا مؤقف ہے کہ تمام لائسنس مروجہ قوانین اور صوبائی خودمختاری کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے جاری کیے گئے تھے اور وفاق صوبے کے معاشی اختیارات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس دوران تاجر برادری نے مطالبہ کیا ہے کہ سیاسی تنازعات سے بالاتر ہو کر کاروباری سرگرمیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
مستقبل کا منظرنامہ ماہرین کے مطابق معدنی وسائل کے تنازع کا حل وفاق اور صوبوں کے درمیان باہمی تعاون پر مبنی ایک جامع اقتصادی فریم ورک میں پوشیدہ ہے۔ آئندہ دنوں میں توقع کی جا رہی ہے کہ ایس آئی ایف سی کے تحت کان کنی کے شعبے میں بین الاقوامی معیار کے اصول لاگو کیے جائیں گے تاکہ غیر قانونی لیزز کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ لائسنسنگ کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کریں تاکہ شفافیت قائم ہو اور قانونی چارہ جوئی کے عمل کو مضبوط بنایا جا سکے۔ اس شعبے کی اصلاح ہی پاکستان کو عالمی سطح پر معدنی برآمدات کا مرکز بنانے کی ضامن ہو سکتی ہے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp