Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

خیبر پختونخوا کا لانگ مارچ شارٹ ٹرم مارچ میں تبدیل ہو چکا ہے: عظمیٰ بخاری

صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ کا لانگ مارچ اب ایک شارٹ ٹرم مارچ میں تبدیل ہو چکا ہے، جو سیاسی تضادات کو ظاہر کرتا ہے۔

خیبر پختونخوا کا لانگ مارچ شارٹ ٹرم مارچ میں تبدیل ہو چکا ہے: عظمیٰ بخاری

اہم ترین حقائق و پس منظر

صوبائی سیاسی منظر نامے میں حالیہ بیانات اور سیاسی سرگرمیوں نے ایک بار پھر تناؤ کو ہوا دی ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ لانگ مارچ اور دھرنے کی حکمت عملی میں مبینہ تبدیلیوں کے بعد سیاسی جماعتوں کے درمیان لفظی جنگ تیز ہو گئی ہے۔ حکومتِ پنجاب کی ترجمان اور صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے اس تمام صورتحال پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ کا لانگ مارچ اب اپنی اصل روح کھو کر ایک 'شارٹ ٹرم مارچ' میں تبدیل ہو چکا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کی غماز ہے کہ انتظامی اور سیاسی سطح پر طے شدہ اہداف کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے وسائل کے مبینہ غلط استعمال اور عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے الزامات نے اس پورے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات

سیاسی غیر یقینی اور اس نوعیت کے لانگ مارچز اور دھرنے ملک کی مجموعی معیشت، تجارت اور کاروباری ماحول پر انتہائی منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ملک کے تجارتی حب اور کاروباری منڈیوں میں اس طرح کی کشیدگی کے باعث کساد بازاری کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں جب عام شہری اور ریٹیلرز پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہیں، سیاسی عدم استحکام سپلائی چین کو متاثر کرتا ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہوتا ہے۔ تجارتی تنظیموں کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ اس قسم کے احتجاجی دنگے اور مارچ کاروباری سرگرمیوں کو معطل کر دیتے ہیں، جس سے نہ صرف یومیہ اجرت پر کام کرنے والے طبقے کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ قومی خزانے کو بھی اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل

دوسری جانب، حکومتی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت عوام کے بنیادی حقوق اور ترقیاتی فنڈز کے تحفظ کی آڑ میں اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے۔ عظمیٰ بخاری نے پریس کانفرنس کے دوران واضح کیا کہ خیبر پختونخوا کی قیادت وفاق کے خلاف بے بنیاد احتجاجی سیاست کر رہی ہے جس کا مقصد ملکی معیشت کو نقصان پہنچانا اور ترقی کے عمل کو سبوتاژ کرنا ہے۔ ادھر تحریکِ انصاف اور متعلقہ حلقوں کا اصرار ہے کہ یہ احتجاج ان کا آئینی اور جمہوری حق ہے اور صوبے کے حقوق کے حصول کے لیے وہ ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔ فریقین کے اس سخت مؤقف کے بعد سیاسی ڈائیلاگ کے دروازے مزید بند ہوتے نظر آ رہے ہیں، جس سے کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ

آئندہ چند دنوں میں سیاسی اور انتظامی سطح پر مزید محاذ آرائی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ مارچ اپنے روڈ میپ کے مطابق آگے بڑھتا ہے یا اس میں مزید تبدیلیاں آتی ہیں، تو اس کے ملک کے امن و امان اور معاشی اشاریوں پر براہ راست اثرات مرتب ہوں گے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو ہوش سے کام لیتے ہوئے تصادم کی بجائے مذاکرات کی میز پر بیٹھنا چاہیے تاکہ معیشت کو مزید بحران سے بچایا جا سکے اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
خیبر پختونخوا کا لانگ مارچ شارٹ ٹرم مارچ میں تبدیل ہو چکا ہے: عظمیٰ بخاری