Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

خیبرپختونخوا میں نالائق حکومت مسلط ہے، گورنر ہاؤس کے اجلاس کا مقصد صورتحال کا جائزہ لینا تھا: فیصل کریم کنڈی

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں گورنر راج تو نہیں لیکن ایک نااہل انتظامیہ مسلط ہے۔

خیبرپختونخوا میں نالائق حکومت مسلط ہے، گورنر ہاؤس کے اجلاس کا مقصد صورتحال کا جائزہ لینا تھا: فیصل کریم کنڈی

اہم ترین حقائق و پس منظر

خیبرپختونخوا کے سیاسی اور انتظامی منظر نامے میں اس وقت شدید ہلچل مچی ہوئی ہے جب گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بی بی سی اردو کو ایک خصوصی انٹرویو میں موجودہ صوبائی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اگرچہ صوبے میں آئینی طور پر گورنر راج نافذ نہیں کیا گیا ہے، تاہم زمینی حقائق یہ ہیں کہ یہاں ایک ’نالائق حکومت‘ مسلط ہے جو صوبے کے سنگین انتظامی اور معاشی چیلنجز سے عہدہ برآ ہونے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہو چکی ہے۔ گورنر ہاؤس میں حالیہ دنوں میں ہونے والے مختلف مشاورتی اجلاسوں کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ ان بیٹھکوں کا بنیادی مقصد کسی بھی قسم کی انتظامی مداخلت یا اختیارات کا تجاوز نہیں تھا، بلکہ اس کا واحد مقصد صوبے کی ابتر ہوتی ہوئی امن و امان اور معاشی صورتحال سے مکمل طور پر آگاہی حاصل کرنا تھا۔ صوبے میں سیاسی محاذ آرائی اور گورنر ہاؤس بمقابلہ وزیراعلیٰ ہاؤس رسہ کشی نے ایک بار پھر انتظامی جمود کو جنم دیا ہے، جس سے عام شہری اور سرکاری مشینری دونوں یکساں طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔

تجارتی و معاشی اثرات

صوبے کے سیاسی عدم استحکام اور حکومت وقت کی مبینہ نااہلی کے براہ راست اور منفی اثرات خیبرپختونخوا کی معیشت، تجارت اور کاروباری منڈیوں پر پڑ رہے ہیں۔ کلیئر ٹریڈرز کے تجارتی اور معاشی تجزیات کے مطابق، سیاسی کشمکش اور فیصلوں کے فقدان کی وجہ سے صوبے میں سرمایہ کاری کا ماحول شدید متاثر ہوا ہے۔ پشاور، مردان، سوات اور دیگر اہم تجارتی مراکز کے تاجروں اور ریٹیلرز کا کہنا ہے کہ غیر یقینی صورتحال کے باعث کاروباری اعتماد متزلزل ہو چکا ہے، جس سے نہ صرف تجارتی حجم میں کمی آئی ہے بلکہ افراط زر اور مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عام آدمی کی مشکلات میں بھی کئی گناہ اضافہ ہو گیا ہے۔ سرحد پار تجارت بالخصوص افغانستان کے ساتھ تجارتی راہداریوں پر بار بار آنے والے تعطل اور صوبائی سطح پر موثر معاشی پالیسیوں کے نہ ہونے کی وجہ سے چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتیں (SMEs) دیوالیہ ہونے کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں۔ تاجر برادری نے مطالبہ کیا ہے کہ سیاسی لڑائیوں کو پس پشت ڈال کر معاشی استحکام پر توجہ دی جائے بصورت دیگر صوبہ سنگین مالی بحران کی لپیٹ میں آ جائے گا۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل

گورنر فیصل کریم کنڈی کے اس بیان کے بعد صوبائی حکومت اور حکمران جماعت کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ صوبائی وزراء اور حکومتی ترجمانوں نے گورنر کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے وفاقی حکومت کی سیاسی مداخلت اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ منتخب صوبائی حکومت عوام کی نمائندہ ہے اور اسے آئینی طریقے سے کام کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، اپوزیشن جماعتوں اور سول سوسائٹی کا مؤقف ہے کہ صوبے میں امن و امان کی خراب صورتحال اور معاشی زبوں حالی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ موجودہ انتظامیہ اپنے فرائضِ منصبی ادا کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ تاجر تنظیموں نے بھی دونوں فریقین کے درمیان جاری اس رسہ کشی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے تحمل اور تدبر کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ معاشی سرگرمیاں مزید متاثر نہ ہوں۔

مستقبل کا منظرنامہ

موجودہ سیاسی اور معاشی کشمکش کے تناظر میں خیبرپختونخوا کا مستقبل غیر یقینی دکھائی دے رہا ہے۔ اگر گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے درمیان اختیارات اور پالیسیوں پر یہ محاذ آرائی جاری رہی تو صوبے میں گورننس کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہو سکتا ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر صوبائی حکومت نے فوری طور پر اصلاحات نہ کیں اور تاجر برادری کے تحفظات کو دور نہ کیا گیا تو سرمائے کا انخلاء تیزی سے بڑھے گا، جس سے بے روزگاری اور غربت کی شرح میں مزید اضافہ ہوگا۔ آنے والے دنوں میں وفاقی اور صوبائی سطح پر سیاسی جوڑ توڑ میں شدت آنے کا امکان ہے، جو بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر صوبے کی عام آبادی اور کاروباری طبقے کے لیے مزید معاشی چیلنجز کا باعث بنے گا۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
خیبرپختونخوا میں نالائق حکومت مسلط ہے، گورنر ہاؤس کے اجلاس کا مقصد صورتحال کا جائزہ لینا تھا: فیصل کریم کنڈی