Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

خیبر پختونخوا کے اسکولوں میں آئی ٹی آلات کی خریداری میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

خیبر پختونخوا کے تعلیمی اداروں کے لیے ٹیبلٹس اور کمپیوٹرز کی خریداری میں بڑے پیمانے پر قواعد و ضوابط کی مبینہ خلاف ورزیوں نے شفافیت کے دعوؤں پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے اسکولوں میں آئی ٹی آلات کی خریداری میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

اہم ترین حقائق و پس منظر خیبر پختونخوا کے محکمہ تعلیم کی جانب سے سرکاری اسکولوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ٹیبلٹس، کمپیوٹرز اور متعلقہ ڈیجیٹل آلات کی فراہمی کا منصوبہ تنازعات کا شکار ہو گیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق خریداری کے عمل میں پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیپرا) کے وضع کردہ بنیادی قوانین کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ مارکیٹ ریٹ سے کہیں زیادہ نرخوں پر معاہدے کرنے اور معیار کی جانچ پڑتال کے لیے طے شدہ طریقہ کار کی عدم پیروی نے اس خریداری کو مشکوک بنا دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مخصوص بولی دہندگان کو نوازنے کے لیے ٹینڈر کی شرائط میں دانستہ طور پر من پسند تبدیلیاں کی گئیں، جس کے نتیجے میں خزانے کو کروڑوں روپے کے ممکنہ خسارے کا سامنا ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات سرکاری شعبے میں اس نوعیت کی خریداری کے عمل میں شفافیت کے فقدان سے براہ راست مقامی ٹیکنالوجی مارکیٹ متاثر ہوتی ہے۔ جب بڑے سرکاری ٹھیکے مسابقتی بولی کے اصولوں کے برعکس جاری کیے جاتے ہیں تو اس سے مارکیٹ میں صحت مند مسابقت کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ شفاف طریقہ کار سے محروم رہنے والے باوقار وینڈرز اور کمپنیوں کے لیے سرکاری شعبے کے ساتھ کام کرنے کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ محدود مالیاتی وسائل کے حامل صوبے کے لیے عوامی فنڈز کا غیر مؤثر استعمال پہلے سے موجود مالی بحران کو مزید گھمبیر کر دیتا ہے، جس کے اثرات وسیع تر تعلیمی ترقی پر مرتب ہوتے ہیں۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل معاملے پر عوامی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے اور احتسابی اداروں سے جامع انکوائری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ حزب اختلاف کے رہنماؤں نے اس خریداری عمل کو مالی بدعنوانی کی ایک واضح مثال قرار دیتے ہوئے مجاز حکام سے وضاحت طلب کی ہے۔ دوسری جانب سرکاری ترجمانوں کا اصرار ہے کہ تاحال تمام قانونی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں اور شفافیت کے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ محکمہ کے متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ شکوک و شبہات دور کرنے کے لیے اندرونی جانچ پڑتال کا عمل شروع کیا جا سکتا ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ اگر ان الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات نہ کرائی گئیں تو آئندہ کے ترقیاتی منصوبوں اور ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچے گا۔ صوبائی حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ فوری طور پر ایک بااختیار کمیٹی تشکیل دے کر خریداری کے تمام ریکارڈ کا فرانزک آڈٹ کرائے۔ اس اقدام کے نتیجے میں نہ صرف بدعنوانی کی روک تھام ممکن ہو سکے گی بلکہ تعلیمی اداروں کو فراہم کیے جانے والے آلات کا اعلیٰ معیار بھی یقینی بنایا جا سکے گا، تاکہ قومی وسائل کا ضیاع روکا جا سکے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
خیبر پختونخوا کے اسکولوں میں آئی ٹی آلات کی خریداری میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف