ایران امریکا ثالثی کے حساس سفارتی معاملات پارلیمان سے اوجھل رکھنے پر سینیٹر رضا ربانی کے سنگین تحفظات
سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے ایران امریکا کشیدگی میں پاکستان کے ثالثی کردار کے معاملات پارلیمان میں پیش نہ کیے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفافیت کا مطالبہ کیا ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر سابق چیئرمین سینیٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر پارلیمنٹیرین میاں رضا ربانی نے وفاقی حکومت کی جانب سے ایران اور امریکا کے مابین ثالثی کی مبینہ سفارتی کوششوں کے تفصیلی امور کو پارلیمان کے سامنے پیش نہ کیے جانے پر کڑی تنقید کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں جغرافیائی و سیاسی توازن انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے، ایسے میں کسی بھی حساس معاملے پر عوام کے منتخب نمائندوں کو اعتماد میں لیے بغیر پالیسی مرتب کرنا جمہوری روایات اور پارلیمانی بالادستی کے منافی ہے۔ سفارتی حلقوں میں یہ چہ مگوئیاں زیر گردش ہیں کہ پاکستان تہران اور واشنگٹن کے درمیان موجود کشیدگی کو کم کرنے کے لیے بیک ڈور چینلز کے ذریعے سرگرم ہے، تاہم ایوان بالا یا ایوان زیریں میں اس نوعیت کی کسی بھی پیش رفت پر باضابطہ بحث نہیں کروائی گئی۔
تجارتی و معاشی اثرات ایران اور امریکا کے باہمی تعلقات میں کسی بھی قسم کے اتار چڑھاؤ کے اثرات جنوبی ایشیا بالخصوص پاکستان کی معیشت اور مقامی منڈیوں پر گہرے انداز میں مرتب ہوتے ہیں۔ پاکستان اور ایران کے درمیان قانونی و غیر رسمی بارٹر ٹریڈ، بارڈر مارکیٹس اور ایل پی جی کی ترسیل براہ راست سرحدی استحکام سے وابستہ ہیں۔ اگر پاکستان اس تنازع میں غیر واضح سفارتی مؤقف اختیار کرتا ہے تو نہ صرف عالمی سطح پر مالیاتی شراکت داروں کے ساتھ پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں بلکہ مقامی سطح پر تجارتی حلقوں میں ایندھن کی قیمتوں، سپلائی چین کے تعطل اور درآمدی و برآمدی لاگت میں اضافے کا خدشہ جنم لے سکتا ہے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق تہران کے ساتھ تجارتی راہداریوں کا تحفظ پاکستان کے توانائی شعبے اور ریٹیل معیشت کے استحکام کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل میاں رضا ربانی نے اپنے بیان میں استفسار کیا کہ آخر کن شرائط اور ترجیحات کے تحت ریاست ثالثی کا فریضہ انجام دینے کی پوزیشن میں آ رہی ہے اور اس کے ملک کے طویل المدتی مفادات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ دوسری جانب اپوزیشن کے دیگر اراکین نے بھی اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے ایوان میں وزیر خارجہ کی باقاعدہ بریفنگ کا مطالبہ کیا ہے۔ سرکاری حکام کا عمومی مؤقف رہا ہے کہ خارجہ امور سے متعلق نازک اور تزویراتی اقدامات کو قبل از وقت عوامی بحث کا حصہ بنانا سفارتی عمل کو سبوتاژ کر سکتا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ریاستی اداروں اور حکومت کے مابین ہم آہنگی کے لیے پارلیمان کو یکسر نظر انداز کرنا کسی طور درست نہیں۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ دنوں میں پارلیمان کے اجلاس کے دوران اس معاملے پر گرما گرم بحث متوقع ہے، جس میں سینیٹ اور قومی اسمبلی کی خارجہ امور سے متعلق قائمہ کمیٹیوں کو بریفنگ دینے کا مطالبہ زور پکڑ سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے پاکستان کا مثبت کردار ناگزیر ہے، لیکن اس کردار کی قانونی حیثیت اور عوامی تائید تبھی ممکن ہے جب پالیسی ساز ایوان کو حقائق سے آگاہ کریں۔ بصورت دیگر، سفارتی پالیسی میں ابہام ملکی سلامتی، خارجہ پالیسی کے استحکام اور عالمی مارکیٹ میں پاکستان کے اقتصادی وقار کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp