Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

خیبر پختونخوا میں طویل المدتی معاشی و انتظامی چیلنجز پر گورنر کا دو ٹوک مؤقف

گورنر خیبر پختونخوا نے صوبے کے انتظامی و مالی مسائل کی ذمہ داری طویل المدتی حکمرانی پر عائد کرتے ہوئے اصلاحات کے لیے وقت اور مربوط پالیسیوں کو ناگزیر قرار دیا ہے۔

خیبر پختونخوا میں طویل المدتی معاشی و انتظامی چیلنجز پر گورنر کا دو ٹوک مؤقف

اہم ترین حقائق و پس منظر خیبر پختونخوا کے سیاسی اور انتظامی منظرنامے میں کشیدگی اس وقت مزید نمایاں ہو گئی جب صوبائی گورنر نے موجودہ مالیاتی بحران اور انتظامی پیچیدگیوں کو تحریک انصاف کی تیرہ سالہ طرز حکمرانی کا نتیجہ قرار دیا۔ پشاور میں صحافیوں اور مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دہائی سے زائد عرصے پر محیط خرابیوں اور انتظامی عدم استحکام کو چند دنوں کے قلیل عرصے میں دور کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبے کے مالیاتی وسائل کی تقسیم، بجٹ کے خسارے، ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر اور امن و امان سے متعلق درپیش رکاوٹوں کی جڑیں ماضی کے غیر متوازن فیصلوں میں پیوست ہیں۔ اس بیان نے صوبائی اور وفاقی حلقوں کے مابین بیانیے کی نئی بحث چھیڑ دی ہے جس میں ادارہ جاتی کارکردگی اور حکومتی جوابدہی بنیادی موضوعات بن کر ابھرے ہیں۔

تجارتی و معاشی اثرات خیبر پختونخوا کی معیشت گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے داخلی و خارجی دباؤ کا شکار ہے۔ صوبائی حکومت اور وفاقی نمائندوں کے مابین پیدا ہونے والی تلخی تجارتی ماحول پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ صنعتی زونز میں جاری تعطل، توانائی کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال اور پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی سست روی سے مقامی تاجر اور ہول سیلرز شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ مالیاتی خسارے کی وجہ سے انفراسٹرکچر کے ترقیاتی منصوبوں میں سست روی نے تعمیراتی شعبے اور اس سے جڑی معاون صنعتوں کو متاثر کیا ہے۔ ریٹیل اور ہول سیل مارکیٹوں کے تجزیہ کاروں کے مطابق جب تک صوبے میں مالی نظم و ضبط بحال نہیں ہوتا، مقامی مارکیٹوں میں قوت خرید کو بحال کرنا اور افراط زر کو قابو میں لانا ناممکن رہے گا، جس سے عام صارف کی معاشی بدحالی مزید گہری ہو رہی ہے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل حکومتی اور اتحادی جماعتوں کے قائدین نے گورنر کے مؤقف کی توثیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں اصلاحات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے حقیقت پسندانہ تجزیہ ضروری ہے۔ ان کا موقف ہے کہ بے ضابطگیوں کی درستگی کے لیے جامع آڈٹ اور معاشی پالیسیوں میں تسلسل درکار ہے۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے اس بیان کو سیاسی بنیادوں پر تنقید قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ ان کا اصرار ہے کہ صوبے کے عوام نے بارہا ان کی کارکردگی اور خدمات پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور موجودہ مسائل کی اصل وجہ وفاق کی جانب سے فنڈز کی عدم فراہمی اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم ہے۔ سرحد چیمبر آف کامرس اور تاجر رہنماؤں نے دونوں فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ معاشی معاملات کو سیاسی مقاصد کی نذر کرنے کے بجائے کاروباری طبقے کو ریلیف دینے پر توجہ مرکوز کریں۔

مستقبل کا منظرنامہ خیبر پختونخوا کا آئندہ معاشی اور انتظامی منظرنامہ اس امر پر منحصر ہے کہ صوبائی اور وفاقی انتظامیہ معاشی بقا کے نقطے پر کس قدر ہم آہنگی پیدا کرتی ہیں۔ اگر سیاسی بیانات اور باہمی الزامات کا سلسلہ جاری رہا تو صوبائی بجٹ مزید گہرے دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے جس کے اثرات براہ راست بنیادی عوامی سہولیات پر پڑیں گے۔ ماہرین معیشت کے مطابق فوری نوعیت کی امداد کے بجائے صوبے کو ٹیکس محصولات کے دائرہ کار میں وسعت، غیر ضروری اخراجات میں کمی اور سیکیورٹی معاملات میں استحکام لانا ہوگا۔ آئندہ چند ماہ اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آیا صوبائی قیادت پائیدار مالی پالیسی اپنانے کی صلاحیت رکھتی ہے یا انتظامی بحران جاری رہے گا۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
خیبر پختونخوا میں طویل المدتی معاشی و انتظامی چیلنجز پر گورنر کا دو ٹوک مؤقف