Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

خیبرپختونخوا میں سابق دور حکومت کے قانونی مشیروں کی برطرفی کا فیصلہ، انتظامی و قانونی ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں متوقع

خیبرپختونخوا حکومت نے سابق دور میں تعینات قانونی مشیروں کو ہٹانے کا فیصلہ کرتے ہوئے تمام سرکاری محکموں میں نئی قانونی تقرریوں کے لیے جامع حکمت عملی تیار کر لی ہے۔

خیبرپختونخوا میں سابق دور حکومت کے قانونی مشیروں کی برطرفی کا فیصلہ، انتظامی و قانونی ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں متوقع

اہم ترین حقائق و پس منظر خیبرپختونخوا کی موجودہ انتظامیہ نے ایک اہم اور دوررس فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں صوبے کے مختلف سرکاری محکموں، کارپوریشنز، اور نیم خودمختار اداروں میں تعینات کیے گئے قانونی مشیروں کو ان کے عہدوں سے ہٹانے کا عمل باقاعدہ طور پر شروع کر دیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق محکمہ قانون نے اس حوالے سے تفصیلی فہرستیں مرتب کر لی ہیں جن کے تحت مختلف وزارتوں اور صوبائی اتھارٹیز میں خطیر معاوضوں پر خدمات انجام دینے والے وکلا کی خدمات ختم کی جا رہی ہیں۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد سرکاری امور میں سیاسی بنیادوں پر کی جانے والی تقرریوں کا خاتمہ اور قانونی چارہ جوئی کے عمل کو خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر استوار کرنا بتایا جا رہا ہے۔ سرکاری سطح پر جاری کردہ ہدایات میں واضح کیا گیا ہے کہ اب قانونی تنازعات کی پیروی کے لیے شفاف طریقہ کار اختیار کیا جائے گا تاکہ عوامی مفاد کا مؤثر دفاع ممکن ہو سکے۔

تجارتی و معاشی اثرات صوبائی اداروں کے قانونی نظام میں یہ وسیع پیمانے پر کی جانے والی تبدیلی تجارتی اور کاروباری حلقوں کے لیے بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ خیبرپختونخوا میں کام کرنے والے ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں، ریٹیلرز اور نجی کمپنیوں کے متعدد قانونی و مالیاتی تنازعات صوبائی حکومت کے مختلف محکموں کے ساتھ عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ قانونی مشیروں کی تبدیلی سے تجارتی معاہدوں کی قانونی حیثیت، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے منصوبوں اور ٹیکس وصولیوں سے متعلق مقدمات کی سماعتوں پر براہ راست اثر پڑے گا۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ سابق دور کے مشیروں کے ہٹائے جانے سے اگرچہ قلیل مدتی بنیادوں پر زیر التوا قانونی مقدمات میں کچھ تاخیر متوقع ہے، تاہم طویل مدتی تناظر میں صوبائی خزانے پر پڑنے والے غیر ضروری اخراجات کا بوجھ کم ہوگا اور منڈی میں شفاف قانونی تحفظ کے باعث کاروباری برادری کا اعتماد بحال ہو سکے گا۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل صوبائی حکومتی ترجمان کے مطابق یہ فیصلہ کسی سیاسی انتقام کی بنیاد پر نہیں بلکہ صوبائی وسائل کے تحفظ اور قانونی محاذ پر بہترین پیشہ ورانہ نتائج حاصل کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ حکام کا موقف ہے کہ سرکاری خزانے سے خطیر رقوم حاصل کرنے والے متعدد مشیر اہم مقدمات میں حکومت کا مؤثر دفاع کرنے میں ناکام رہے تھے۔ دوسری جانب، سابق حکومتی نمائندوں اور متاثرہ قانونی مشیروں نے اس اقدام کو انتظامی بنیادوں کے بجائے سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میرٹ پر کی گئی تقرریوں کو ختم کرنے سے صوبائی مقدمات کی پیروی متاثر ہوگی اور حکومت کو جاری منصوبوں میں قانونی تعطل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ وکلا برادری کی چند نمائندہ تنظیموں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ نئی تعیناتیوں میں سیاسی وابستگی کے بجائے مکمل طور پر اہلیت کو ترجیح دی جائے۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران تمام صوبائی محکموں کی جانب سے نئے قانونی ماہرین کے لیے اشتہارات اور شفاف پینل تشکیل دیے جانے کا امکان ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں حکومت کے زیر التوا آئینی، تجارتی اور انتظامی مقدمات کی حکمت عملی میں بنیادی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اگر حکومت نے نئی تقرریوں کے دوران شفاف اور غیر جانبدارانہ معیار برقرار رکھا تو اس سے نہ صرف عدالتی چارہ جوئی میں بہتری آئے گی بلکہ سرکاری وسائل کے ضیاع کو روک کر انتظامی نظام کی کارکردگی میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا جا سکے گا۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
خیبرپختونخوا میں سابق دور حکومت کے قانونی مشیروں کی برطرفی کا فیصلہ، انتظامی و قانونی ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں متوقع