خیبر پختونخوا حکومت نے عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا، عوامی نیشنل پارٹی کا سخت تنقیدی وار
عوامی نیشنل پارٹی نے خیبر پختونخوا حکومت کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر خیبر پختونخوا کے سیاسی منظر نامے میں اس وقت شدید گرما گرمی پائی جاتی ہے جب عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے صوبائی حکومت کی پالیسیوں کو کڑے تنقیدی نشانے پر رکھا ہے۔ اے این پی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت سنجیدہ نوعیت کے انتظامی اور معاشی مسائل حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور عوام کو محض نعروں اور جھوٹے وعدوں کے سہارے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا جا رہا ہے۔ صوبے میں امن و امان کی ابتر صورتحال، مالیاتی دباؤ اور ترقیاتی کاموں کے نام پر ہونے والی خانہ پری نے عام آدمی کا جینا محال کر دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صوبہ شدید مالی بحران اور انتظامی چیلنجز سے دوچار ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات صوبے کے معاشی اور تجارتی حلقوں میں حکومت کی پالیسیوں کے خلاف گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ مہنگائی کی شرح میں مسلسل اضافے اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے تاجروں اور ریٹیلرز کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے کاروبار دوست ماحول کی فراہمی کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ مارکیٹ میں کس بازاری کی وجہ سے خریداروں کی قوت خرید انتہائی کم ہو چکی ہے، جس سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے دیوالیہ ہونے کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ معاشی ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ اگر حکومت نے فوری طور پر تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے ٹھوس اقدامات نہ کیے تو صوبے کی معیشت مزید زبوں حالی کا شکار ہو جائے گی، جس کے اثرات براہ راست عام شہریوں کی روزمرہ زندگی پر پڑیں گے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل عوامی نیشنل پارٹی کے ترجمان کا مؤقف ہے کہ صوبائی حکمران عوام کے مسائل سے مکمل طور پر لاتعلق ہو چکے ہیں اور اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اے این پی کا کہنا ہے کہ صوبے کے وسائل کو درست سمت میں استعمال کرنے کے بجائے غیر ضروری منصوبوں پر ضائع کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، حکومتی ترجمان نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مخالفین سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کر رہے ہیں اور صوبے کی ترقی کو ہضم نہیں کر پا رہے۔ حکومتی حامیوں کا دعویٰ ہے کہ فلاحی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے اور جلد ہی عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے گا، تاہم ناقدین ان دعوؤں کو محض کاغذی کارروائی قرار دے رہے ہیں۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ آنے والے دنوں میں خیبر پختونخوا کی سیاسی فضا مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔ اگر صوبائی حکومت نے عوامی مشکلات کے ازالے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات نہ کیے تو اپوزیشن جماعتیں سڑکوں پر آنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ تاجر برادری نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات کو نظر انداز کیا گیا تو وہ احتجاجی تحریک کا حصہ بنیں گے۔ معاشی استحکام اور سیاسی مفاہمت کے بغیر صوبے کا مستقبل غیر یقینی دکھائی دیتا ہے، اور حکومت کو اپنی ترجیحات پر از سر نو غور کرنا ہو گا تاکہ عوامی اعتماد بحال کیا جا سکے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp