Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

پی ٹی آئی کے اندر سے مزاحمت کے بجائے افہام و تفہیم پر مبنی سیاست کی آوازیں ابھر رہی ہیں: خواجہ آصف

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف کے اندر سے اب تصادم کے بجائے سنجیدہ پارلیمانی سیاست اپنانے کے مشورے سامنے آ رہے ہیں، جو قومی استحکام کے لیے ضروری ہے۔

پی ٹی آئی کے اندر سے مزاحمت کے بجائے افہام و تفہیم پر مبنی سیاست کی آوازیں ابھر رہی ہیں: خواجہ آصف

اہم ترین حقائق و پس منظر وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اپنے حالیہ بیان میں ملکی سیاسی فضا اور پاکستان تحریک انصاف کی حکمت عملی پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کی اندرونی صفوں سے اب یہ مطالبات سامنے آ رہے ہیں کہ محاذ آرائی اور مزاحمت کے بجائے حقیقی سیاست کا راستہ اختیار کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران پیدا ہونے والے ہیجان اور سڑکوں پر احتجاج کی روش نے سیاسی عمل کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے چند معتدل مزاج رہنماؤں کا بھی ماننا ہے کہ مسلسل تصادم کی پالیسی کے باعث تنظیمی اور انفرادی سطح پر مشکلات میں اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد ریاستی اداروں کے ساتھ باہمی احترام اور افہام و تفہیم کی فضا بحال کرنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات مسلسل سیاسی غیر یقینی کی کیفیت ملکی معیشت، تجارت اور صنعتی پیداوار کے لیے ہمیشہ زہر قاتل ثابت ہوئی ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج سے لے کر اشیائے خوردونوش کے ہول سیل بازاروں تک، کاروباری سرگرمیاں استحکام کی محتاج ہوتی ہیں۔ جب بھی دارالحکومت یا بڑے شہروں میں احتجاج اور دھرنوں کی کال دی جاتی ہے، رسد کی ترسیل متاثر ہونے سے ریٹیل اور ہول سیل سطح پر افراط زر کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ تجارتی ماہرین کا تجزیہ ہے کہ اگر اپوزیشن جماعتیں محاذ آرائی چھوڑ کر آئینی اور جمہوری دائرے میں کردار ادا کریں تو اس سے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری، کرنسی کی شرح تبادلہ اور مقامی منڈیوں میں اعتماد کی فضا بحال ہو سکتی ہے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل حکومتی ترجمانوں کا کہنا ہے کہ ریاست اور حکومت نے ہمیشہ پارلیمانی ڈائیلاگ کے دروازے کھلے رکھے ہیں، تاہم تشدد اور انتشار کی سیاست کسی صورت قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ حکومتی وزراء کے مطابق آئینی حدود میں رہتے ہوئے بات چیت ہی مسائل کا واحد حل ہے۔ دوسری جانب تحریک انصاف کے بعض رہنما ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اپناتے ہیں کہ پارٹی کی جدوجہد آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے ہے، جب کہ بعض اندرونی حلقے خاموشی سے اس بات کی تائید کر رہے ہیں کہ عوامی اور معاشی مسائل کے حل کے لیے سیاسی تنہائی اور تصادم کے خاتمے کی حکمت عملی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ آنے والے دنوں میں پاکستانی سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، اس کا دارومدار تحریک انصاف کی قیادت کے حتمی فیصلوں پر ہے۔ اگر سیاسی قوتیں محاذ آرائی کا دامن چھوڑ کر ملکی مفاد اور اقتصادی بحالی کے لیے کسی میثاق معیشت یا بامقصد ڈائیلاگ پر آمادہ ہوتی ہیں تو اس سے ملک کو طویل المدتی استحکام نصیب ہو سکتا ہے۔ بصورت دیگر تصادم کی موجودہ فضا کاروباری دنیا میں بداعتمادی اور عوام میں معاشی پریشانیوں کو مزید گہرا کر سکتی ہے، جس سے بچاؤ کے لیے سیاسی بصیرت ناگزیر ہے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
پی ٹی آئی کے اندر سے مزاحمت کے بجائے افہام و تفہیم پر مبنی سیاست کی آوازیں ابھر رہی ہیں: خواجہ آصف