جامعہ کراچی میں طلبہ یونینز کی بحالی کے لیے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع، آئینی پٹیشن دائر
جامعہ کراچی کے طلبہ نے سندھ اسٹوڈنٹس یونین ایکٹ کے نفاذ اور یونینز کی فوری بحالی کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں باضابطہ درخواست دائر کر دی ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر جامعہ کراچی کے طلبہ نے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں جمہوری عمل کی بحالی اور طلبہ کے بنیادی آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے سندھ ہائی کورٹ سے باضابطہ رجوع کیا ہے۔ دائر کردہ آئینی پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سندھ اسمبلی کی جانب سے 'سندھ اسٹوڈنٹس یونین ایکٹ 2022' کی منظوری کے باوجود تعلیمی اداروں میں تاحال طلبہ یونینز کے انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں بنایا جا سکا۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ دہائیوں سے عائد غیر اعلانیہ پابندی کے نتیجے میں طلبہ اپنے بنیادی آئینی اور جمہوری حقوق سے محروم چلے آ رہے ہیں، جس سے کیمپس میں فکری، سماجی اور جمہوری سرگرمیوں کا فقدان پیدا ہو چکا ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات اگرچہ طلبہ یونینز کی بحالی بنیادی طور پر ایک تعلیمی اور جمہوری عمل ہے، مگر معاشی اور تجارتی نقطہ نظر سے اس کے ملکی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اعلیٰ تعلیمی ادارے درحقیقت افرادی قوت کی تربیت اور پیشہ ورانہ مہارتوں کی تیاری کی نرسری شمار ہوتے ہیں۔ جب تک طلبہ میں مذاکرات، تنظیمی صلاحیتوں اور قائدانہ فہم کا فقدان رہے گا، ملکی کارپوریٹ سیکٹر اور تجارتی صنعت کو موزوں قیادت کی فراہمی متاثر رہے گی۔ ایک مستحکم اور پرامن جمہوری کلچر جامعات میں استحکام لاتا ہے، جس سے نہ صرف تعلیمی سال کا ضیاع رکتا ہے بلکہ فکری تحقیق اور تجارتی اختراعات کی راہیں بھی ہموار ہوتی ہیں۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل درخواست گزار طلبہ کے قانونی نمائندوں کا کہنا ہے کہ آئینِ پاکستان کی دفعہ 17 ہر شہری کو انجمن سازی کی آزادی فراہم کرتی ہے، اور صوبائی قانون سازی کے بعد جامعات کی انتظامیہ کے پاس انتخابات کو مؤخر کرنے کا کوئی قانونی جواز باقی نہیں بچا۔ دوسری جانب، جامعہ کراچی کی انتظامیہ کا موقف رہا ہے کہ یونین سازی کے لیے متعلقہ سرکاری اداروں اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے جامع ضابطہ کار اور سکیورٹی پروٹوکولز کی حتمی تشکیل ضروری ہے تاکہ ماضی کی طرح کیمپس کے امن میں کوئی خلل واقع نہ ہو۔ سول سوسائٹی اور وکلا برادری نے طلبہ کے اس اقدام کو مثبت قرار دیتے ہوئے فوری ضابطہ کار وضع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ سندھ ہائی کورٹ میں دائر اس درخواست کی سماعت کے بعد صوبائی حکومت اور جامعہ کراچی کی انتظامیہ سے تفصیلی جواب طلب کیے جانے کا امکان ہے۔ اس قانونی پیش رفت کے بعد نہ صرف جامعہ کراچی بلکہ صوبے بھر کی دیگر سرکاری اور نجی جامعات میں بھی طلبہ نمائندگی کے دروازے کھل سکتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر سندھ حکومت اور عدالتِ عالیہ اس قانون پر مؤثر عملدرآمد کرانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ عمل پاکستان بھر کی دیگر جامعات کے لیے بھی ایک مشعلِ راہ ثابت ہوگا۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp